Bharat Express DD Free Dish

Uttarakhand

اتراکھنڈ کے جنگلات میں لگنے والی آگ کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر 5 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پوڑی تحصیل کے تھاپلی گاؤں میں جنگل کی آگ کو کھیت میں آتے دیکھ کر خاتون جلدی سے گھاس کا بنڈل لینے چلی گئی تھی۔ تاہم اس دوران وہ آگ کی زد میں آ گئی۔

نینی تال ضلع ہیڈکوارٹر کے قریب جنگلات میں لگی آگ نے خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔ آگ سے پائنس کے علاقے میں واقع ہائی کورٹ کالونی کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے جب کہ علاقے میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔

آدرش نے ویڈیو کے تھمب نیل میں بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کھلے عام پیسے بانٹتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور لوگ اسے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہوں نے (دھامی) انتخابات کے دوران پیسے تقسیم کیے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 16.63 کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں۔ ان میں 8.4 کروڑ مرد اور 8.23 ​​کروڑ خواتین ووٹر ہیں۔ ان میں سے 35.67 لاکھ ووٹر ہیں جو پہلی بار اپنا ووٹ کاسٹ کررہے ہیں

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

ترسیم سنگھ کو پنجاب اور ترائی میں سکھوں کا لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے قتل کی ذمہ داری ترن تارن کے گاؤں میاونڈ کے رہنے والے سربجیت سنگھ نے لی تھی۔

اتراکھنڈ کے بجٹ کا فوکس زراعت پر ہے۔ پی ایم مودی اتراکھنڈ کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ بیشتر محکموں نے بجٹ کی رقم زیادہ خرچ کی ہے۔

وزیر زراعت گنیش جوشی نے کہا، "اب تک دھامی حکومت نے 26 شہید فوجیوں کے خاندانوں کو نوکریاں دی ہیں۔"

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک نوجوان کو لاکھوں روپے بانٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس معاملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حیدرآباد سے نوجوان بنبھول پورہ پہنچا تھا۔ یہاں اس نے گھر گھر جا کر لوگوں میں لاکھوں مالیت کے بنڈل تقسیم کئے۔

مینسپل کارپوریشن کے مطابق تشدد کے مبینہ مرکزی ملزم عبدالملک نے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر غیر قانونی مدرسہ اور نماز کی جگہ تعمیر کر رکھی تھی، جب انتظامیہ کی ٹیم اسے گرانے پہنچی تو وہاں پر تشدد پھوٹ پڑا۔