Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh News

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ اگر کوئی شخص ’’آئی لو محمد‘‘ کہتا ہے تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ’’آئی لو محمد‘‘ کہتے ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو انہیں سزا دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نعروں یا پوسٹروں کو متنازعہ بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال کی سنگل بنچ نے جمع کرائی گئی ضمانت درخواست پر سماعت کے بعد اسے خارج کر دیا۔ مولانا توقیر رضا نے بریلی کے بارادری تھانے میں درج مقدمے کے سلسلے میں ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سے قبل بریلی کی عدالت بھی ان کی درخواست ضمانت مسترد کر چکی تھی، جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

اتر پردیش کے وزیر ٹرانسپورٹ دیا شنکر سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کے 12 سالہ دور میں ملک نے معاشی اور سماجی شعبوں میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق 2014 میں بھارت عالمی معیشتوں کی فہرست میں گیارہویں مقام پر تھا، جبکہ آج ملک دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کر چکا ہے۔

پولیس کے مطابق نابالغ اچانک چلتی گاڑی کے سامنے آ کر خود کو زخمی ظاہر کرتا اور زور زور سے شور مچاتا تھا۔ گاڑی کا ڈرائیور جب صورتحال جاننے کے لیے گاڑی سے باہر نکلتا تو دوسرا ملزم گاڑی کی دوسری جانب سے کھڑکی کھول کر موبائل فون یا دیگر قیمتی سامان چرا کر فرار ہو جاتا تھا۔ اس طریقہ واردات کے ذریعے گینگ نے متعدد افراد کو نشانہ بنایا۔

لکھنؤ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی اہم ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مودی طویل عرصے تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اور اس کے بعد مسلسل 12 سال سے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

نائب وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وزیراعظم مودی نہ صرف ’’وکست بھارت‘‘ کے عزم کو آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ وہ دنیا بھر میں بھگوان بدھ کے امن اور ہم آہنگی کے پیغام کو بھی مؤثر انداز میں پھیلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھارت کی قدیم تہذیبی وراثت اور جدید ترقی کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کرتی ہے۔ا

طلاعات کے مطابق اس پل کی تعمیراتی منصوبے کو راجیہ سبھا رکن بابورام نشاد کی کوششوں کے بعد منظوری ملی تھی۔ یہ پل ان کے آبائی گاؤں موراکندر پرسنی کے قریب تعمیر کیا جا رہا تھا اور علاقے کے کئی دیہات کو آپس میں جوڑنے کے لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا تھا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ ریاست میں ہونے والے انکاؤنٹروں پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں اور حالیہ واقعات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی مرضی کے مطابق کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فرضی انکاؤنٹروں کے ذریعے مخصوص طبقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ جمہوری نظام کے خلاف ایک خطرناک رجحان ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے کہا کہ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور سال 2047 تک بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے سماجی ہم آہنگی، روحانی اقدار اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل جانچ اور رجسٹریشن کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد حکومت اور وقف اداروں نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ ریاست بھر میں اب تک 31 ہزار سے زیادہ وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے، جس کے بعد کئی قدیم قبرستانوں، درگاہوں اور مذہبی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔