Bharat Express DD Free Dish

Urdu

منگل کی صبح ایوان کی کارروائی کے خلاف احتجاج کے بعد ایوان کا اجلاس ساڑھے 12 بجے شروع ہوا۔ اس دوران اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے تجویز پیش کی کہ انگریزی کے بجائے اردو کو فلور لینگوئج کے طور پر اپنایا جائے، کیونکہ انگریزی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اردو ہماری دوسری زبان ہے۔ اس پر سی ایم یوگی نے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کا مدعا اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔

سی ایم یوگی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی بھوجپوری، بندیل کھنڈی اور اودھی کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔ یہ ایس پی کی منافقت ہے۔ ایس پی کے لوگ دوہرے کردار کے ہیں۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ سماج وادی پارٹی کے لوگ اردو کی وکالت کر رہے ہیں۔

لوک سبھا کے اسپیکر نے کہاکہ اب ایوان کی کارروائی کا ترجمہ بوڈو، ڈوگری، میتھلی، منی پوری، سنسکرت اور اردو میں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ دنیا کا واحد قانون ساز ادارہ ہے جہاں کارروائی کا ایک ساتھ کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے خط میں واضح کیا کہ سی بی ایس ای کے ساتھ رجسٹرڈ تمام پرائیویٹ اسکولوں کو اردو کی تعلیم کے لیے ضروری انتظامات کرنے ہوں گے اور کمپلائنس رپورٹ بہار ایجوکیشن پروجیکٹ آفس کو بھیجنی ہوگی۔

ٹام 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اسپورٹس جرنلسٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے سچن تندولکر کا ٹی وی پر انٹرویو کیا تھا، جب وہ کرکٹ میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ راجیش کھنہ کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی فلم ’ارادھنا‘ دیکھ کر اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔

ورکشاپ میں انٹرایکٹو سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں ماہرین اور اسکول کے بچوں نے پیش کی گئی کہانیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

راجستھان اکیڈمی کے تین کمروں کو تالے لگے ہوئے ہیں لیکن یہاں ایک کاغذ پر ایک پیغام لکھا ہوا ہے جو لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔ اس پیغام میں لکھا گیا ہے کہ ’’مسکرائیے کہ آپ اردو اکادمی ہیں۔ ‘‘

میٹنگ میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ طویل عرصے سے محکمہ کے سربراہوں کی تقرری کی جائے۔ ملک کے تین بڑے تعلیمی ادارے جن کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے

 انتظامیہ نے جس چالاکی کے ساتھ اردو کو بے گھر کرنے اور اردو کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے،ا س سے بانیان جامعہ کی روح زیر زمیں تڑپ رہی ہوگی۔ جامعہ کے درودیوار سے ،بانیان جامعہ کے اس دیار سے  اردو کو بے آبروکرنے پر معمار جامعہ کی روح  یقیناًافسردہ ہوگی۔دعا کیجئے تاکہ بانیان ِجامعہ کی روح کو قرار آجائے اور پروفیسر نجمہ اخترکو جامعہ کی روایت کا خیال۔

جوموجودہ وائس چانسلر ہیں ،وہ شاید جامعہ کی اس روایت سے آگاہ نہیں ہیں ۔ یا شعوری طور پر کسی دباو میں آکر یہ رویہ اختیار کیا ہے۔ جامعہ ملیہ کی تقریب میں جامعہ کے طلبا کے سامنے جو اردو بہت اچھی جانتے ہیں ،خالص ہندی میں خطاب کرنا ،میرے خیال سے کسی دباو میں کسی منصوبے کی تکمیل  کیلئے ایسا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔