Bharat Express DD Free Dish

Urdu Ghazal

جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اقبال کی شاعری کا مرکزی خیال خودی ہے، یعنی انسان اپنی پہچان، خود اعتمادی اور کردار کی تعمیر کرے۔ ان کی شاعری میں تصوف، اسلامی فلسفہ، اور مسلمانوں کی بیداری کا گہرا پیغام ملتا ہے۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری نے لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑا۔ ان کی معروف تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔

پروین شاکر کی شاعری ہجر اور ملن کی کشاکش سے عبارت ہے جس میں ہجر اور وصل دونوں ادھورے ہیں۔ جذبے کی لے، پیشکش کا انداز اور لفظوں کی بُنت کے ساتھ پروین شاکر نے اردو کی نسائی شاعری میں اک ایسا مقام حاصل کیا جس کے ذکر کے بغیر اس تحریک کو نامکمل سمجھا جائے گا۔

منور رانا نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔