Bharat Express DD Free Dish

UP Madarsa Act

اے پی سی آر الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے اورامید ظاہرکرتی ہے کہ عدلیہ آئندہ بھی مشکل حالات میں انصاف کے متلاشی افراد اور اداروں کے لیے مؤثر قانونی سہارا فراہم کرتی رہے گی۔ اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ غیر قانونی، من مانے یا امتیازی نوعیت کی سرکاری کارروائیوں سے متاثرہ افراد اور اداروں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

مدنی نے کہا کہ جس طرح فرقہ پرست طاقتیں اور اقتدار میں بیٹھے کئی وزراء کھلے عام تشدد کی اپیل کر رہے ہیں اور مدارس کے وجود پر حملہ کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کا یہ بیان ایک اہم پیغام ہے۔

اس سے قبل 22 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے یوپی مدرسہ بورڈ ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تمام طلباء کو عام اسکولوں میں داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے 5 اپریل کو ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی تھی۔سپریم کورٹ میں اس معاملےکی تفصیل سے سماعت ہوئی۔

یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ اس نے ہائی کورٹ کے حکم کو قبول کر لیا ہے۔ مدرسہ کی وجہ سے حکومت کو سالانہ 1096 کروڑ روپے کا خرچہ ہو رہا تھا۔ مدارس کے طلباء کو دوسرے اسکولوں میں داخل کیا جائے گا لیکن درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ اس حکم سے 17 لاکھ طلباء اور 10 ہزار اساتذہ متاثر ہوں گے۔