Bharat Express DD Free Dish

UP ATS

یوپی اے ٹی ایس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ کچھ خفیہ معلومات موصول ہوئی ہیں، جن میں چند مدارس میں مشکوک سرگرمیوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، اس لیے قومی سلامتی کے پیشِ نظر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیادہ تر مدارس اچھا کام کر رہے ہیں اور یہ صرف جانچ کا عمل ہے، لیکن کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔

یوپی اے ٹی ایس نے حال ہی میں چھانگربابا اوران کے معاون نیتوعرف نسرین کوبلرام پورسے گرفتارکیا ہے۔ اس کے ساتھ غیرقانونی طریقے مذہب تبدیلی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔

یوپی کے بلرام پورمیں غیرقانونی مذہب تبدیلی کے الزام میں گرفتار جمال الدین عرف چھانگربابا کی حویلی پربلڈوزرچلا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حویلی گرام سبھا کی زمین پربنائی گئی تھی۔ پولیس کی موجودگی میں یہ بلڈوزرکارروائی کی گئی۔

یوپی اے ٹی ایس نے ایک ہندوستانی ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے جو روس میں رہ کر آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کر رہا تھا۔ اس کے خلاف تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

تمام نکسلائیٹ بلیا ضلع کے مختلف تھانہ علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ اے ٹی ایس نے ان کے پاس سے بڑی مقدار میں نکسلی لٹریچر، پمفلٹ، ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغامات، الیکٹرانک آلات اور ہتھیار برآمد کیے ہیں۔

پاکستانی خاتون سیما حیدر معاملے میں یوپی اے ٹی ایس نے بلند شہر سے دو بھائیوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان بھائیوں نے مل کر سیما حیدر اورسچن مینا کے دستاویزوں میں چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

پب جی گیم کے ذریعہ سچن کی محبت میں گرفتار ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیما حیدر سے یوپی اے ٹی ایس مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ہر سوال کے جواب میں سیما حیدر کہہ رہی ہے کہ وہ سچن کے پیار میں سرحد پارکرکے ہندوستان آئی۔

دوران تفتیش سیما حیدر نے ایسے کئی انکشافات بھی کیے ہیں جنہیں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ سیما نے افسران کو بتایا کہ سچن پہلا ہندوستانی نہیں تھا جس کے ساتھ اس نے بات چیت کی تھی۔ اس سے پہلے بھی سیما حیدر نے دہلی این سی آر میں کئی نوجوانوں سے فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے بات کی تھی۔

پاکستان سے دبئی اور نیپال کے راستے ہوئے ہندوستان آنے والی سیما حیدرسے متعلق جانچ ایجنسیوں کو یہ خدشہ ہو رہا ہے کہ وہ کہیں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رابطے میں تو نہیں ہے۔ یا اس کا ہندوستان آنے کا کوئی اورمقصد تو نہیں ہے۔