Urdu Conclave 2026

trade growth

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کے برآمدی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ہیٹروسائکلک مرکبات کا حصہ ایک فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد ہو گیا ہے اور یہ سب سے بڑی برآمدی درجہ بندی کے طور پر ابھرے ہیں۔ مسافر اور مال بردار بحری جہازوں کا حصہ بڑھ کر 10 فیصد ہو گیا، جبکہ دوا سازی کی مصنوعات کا حصہ 18 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد رہ گیا۔

اے ای پی سی نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت سے کینیڈا کو بھارتی ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارت کے لیے چین سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ چین سے بھارت کی اہم درآمدات میں دواساز مصنوعات، الیکٹرانکس و سیمی کنڈکٹرز، مشینری، صنعتی سامان، کیمیکلز اور پلاسٹک شامل ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99.2 ارب ڈالر رہا، مگر برآمدات میں موجودہ تیزی اس خسارے میں کمی کی امید پیدا کر رہی ہے۔