Bharat Express DD Free Dish

Thalapathy Vijay

وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے 300 نئی ڈیزل اور سی این جی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ افتتاح کے بعد وہ خود بھی ایک نئی بس میں سوار ہوئے اور سفر کا تجربہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈرائیوروں سے ملاقات کی، انہیں مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ بس کی اگلی نشست پر بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی "تملگا ویٹری کڑگم" (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔

سیاست میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے تملگا ویٹری کزگم کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی سیاسی اور عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ان کی نجی زندگی سے متعلق معاملات بھی عوام اور میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ریاست کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں، چاہے وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں شراب بندی یا شراب کی دکانوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تھلاپتی وجے کے اس فیصلے کو عوامی مطالبات کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔

تمل ناڈو میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے باوجود سپر اسٹار وجے کی حلف برداری ٹل گئی ہے۔ اکثریت کے لیے ضروری 118 کے ہندسے کے مقابلے میں وجے کے پاس فی الحال 116 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ آئی یو ایم ایل اور وی سی کے کی حمایت نہ ملنے اور کانگریس-ڈی ایم کے کے بدلتے تعلقات نے سیاسی ہلچل تیز کر دی ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن میں اس بار تھلاپتی وجے کی پارٹی کی موجودگی نے سبھی سیاسی حالات کو بدل کررکھ دیا ہے۔ پہلے ہی الیکشن میں ان کی پارٹی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

تھلاپتی وجے نے چنئی کے نیلانگرائی علاقے کے ایک اسکول میں قائم پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔ ان کی پارٹی اس بار پہلی مرتبہ مکمل طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور وہ خود دو نشستوں سے امیدوار ہیں۔

پوچھ گچھ کے دوران سی بی آئی حکام نے مبینہ طور پر کئی اہم سوالات اٹھائے، جن میں یہ شامل تھا کہ کرور پروگرام کا اہتمام کس نے کیا، کیا وجے کو پہلے سے انتظامات کی مکمل جانکاری تھی، ریلی کے جگہ پر تاخیر سے پہنچنے کی وجہ کیا تھی، اور بڑھتی ہوئی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔

جانچ کے سلسلے میں 4 دسمبر کو کرور ضلع کے کلکٹر تھنگاویلم کو بھی طلب کیا گیا، جہاں ان سے انتظامی منظوری، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور ریلی کے دن نافذ کیے گئے رسپانس میکانزم کے بارے میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔