Bharat Express DD Free Dish

Tesla

ممبئی کے بعد ٹیسلا بھارت کی راجدھانی دہلی میں اگلا شوروم کھولے گی۔ حال ہی میں کمپنی نے ممبئی اور پونے میں مختلف عہدوں پر نوکریوں کے لیے آسامیاں نکالی تھیں،

ٹرمپ نے کہا، "ایلون مسک کافی عرصے سے جانتے تھے کہ میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) مینڈیٹ کے خلاف ہوں۔ یہ ایک احمقانہ پالیسی ہے۔ الیکٹرک کاریں ٹھیک ہیں، لیکن کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ٹرمپ کے بیان سے پہلے مسک نے بھی ایک تیز حملہ کیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت عالمی ای وی مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر خود کو قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمارسوامی نے زور دیا کہ حکومت ای وی شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

حکومتی عہدہ چھوڑتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ اب میں مکمل طور پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے لیے وقف ہوں۔ میں اپنے سیاسی اخراجات کو بھی کم کروں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر اپنی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

وزیراعظم نریندرمودی نے ا مریکہ کے عظیم بزنس مین اورٹیسلا کے سی ای اوایلن مسک سے بات کی ہے۔ اس کی جانکاری وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پردی ہے۔

ٹیسلا ڈیلرشپ کے باہر ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر وفاقی افرادی قوت میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے خلاف ایک بڑا احتجاج دیکھا گیا

ہندوستانی حکومت نے حال ہی میں ایک نئی ای وی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کے تحت اگر کوئی کار ساز کم از کم500 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کرتا ہے اور مقامی فیکٹری لگاتا ہے تو درآمدی ٹیکس کو 15 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔

مسک نے وارنر برادرز اسٹوڈیوز میں منعقدہ تقریب میں شرکاء سے کہا کہ ’’اس بارے میں سوچیں کہ لوگ کار میں کتنا وقت گزارتے ہیں اور انہیں کتنا وقت واپس ملے گا، جسے وہ کتابیں پڑھنے، فلمیں دیکھنے، ورزش کرنے یا دیگر کاموں میں صرف کر سکتے ہیں۔‘‘

ایلون مسک اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے ایکس کی معطلی کا حکم دینے والے جج کو بھی ڈکٹیٹر کہہ دیا۔ ایلون مسک نے کہا کہ برازیل کے ججوں کا انتخاب عوام نے نہیں کیا، وہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے آزادی اظہار کو تباہ کر رہے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے 7500 ڈالر کا ٹیکس کریڈٹ ختم کرنے پر غور کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کو کابینہ یا مشیر کا کردار بھی دے سکتے ہیں۔