Bharat Express DD Free Dish

Tamil Nadu Politics

تمل ناڈو میں ٹی وی کے سربراہ وجے کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی(ایم)، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ اب ان کے پاس 120 اراکینِ اسمبلی کی اکثریت موجود ہے۔ جانیے 4 مئی سے 9 مئی تک جاری سیاسی ہلچل اور وجے کے وزیر اعلیٰ بننے کی پوری کہانی۔

تملگا ویٹری کزگم کو 234 رکنی اسمبلی میں 120 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اکثریت کے لیے 118 نشستیں درکار تھیں۔ حلف لینے کے بعد وجے 1967 کے بعد پہلے ایسے رہنما بن جائیں گے جو ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ بنیں گے۔

تمل ناڈو میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے باوجود سپر اسٹار وجے کی حلف برداری ٹل گئی ہے۔ اکثریت کے لیے ضروری 118 کے ہندسے کے مقابلے میں وجے کے پاس فی الحال 116 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ آئی یو ایم ایل اور وی سی کے کی حمایت نہ ملنے اور کانگریس-ڈی ایم کے کے بدلتے تعلقات نے سیاسی ہلچل تیز کر دی ہے۔

ٹی وی کے سربراہ وجے نے تمل ناڈو کے گورنر سے مل کرحکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وجے کے پاس 121 اراکین اسمبلی کی حمایت ہے۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے زیرقیادت اتحاد میں بائیں بازو کی دونوں جماعتیں سی پی آئی اورسی پی ایم نے کہا کہ حمایت کا فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ بی جے پی کو پچھلے دروازے سے ریاست میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

سیاسی حلقوں میں اس خط کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ڈی ایم کے اور کانگریس کئی برسوں سے قومی سیاست اور تمل ناڈو کی انتخابی حکمت عملی میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں مختلف مواقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے اختلافات نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔

کانگریس کی حمایت حاصل، اکثریت کے لیے مزید کوششیں جاری، ٹی وی کے نے اپنے پہلے ہی انتخاب میں 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ یہ روڈ شو ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ریاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔

مدورئی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے ’’ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ تمل ناڈو‘‘ کا نعرہ دیا اور ریاست میں شمولیتی ترقی کے لیے مرکز کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔