Bharat Express DD Free Dish

Tahir Hussain

عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہرحسین کی سزا پرپیر کے روز عدالت میں سماعت ہوئی۔ طاہر حسین اور دیگر مجرمین کے خلاف پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا گیا۔ آئی بی افسرانکت شرما کے قتل میں ان مجرمین کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

 آئی بی آفیسرانکت شرما کا قتل فروری 2020 میں شامل مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران ہوا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 5 افراد کو قصور وار قرار دیا ہے۔ جبکہ 6 افراد کو بری کردیا۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ 5 فروری کو آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں نفرت کرنے والوں کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ لیکن ووٹ کسے دینا ہے، یہ سوال بنا رہتا ہے۔ اگر وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، تو کیا ہمیں ان کے ساتھ مل اپنے حق کے لیے لڑنا چاہیے؟ یہی وقت ہے،  5 فروری کو آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر فرعون  کو ہرانا چاہتے ہیں تو موسیٰ (پیغمبر) کا ساتھ دینا ہوگا۔

طاہر حسین کی بیٹی نے جلسے میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو سپورٹ کریں،  مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے،  آپ کا ایک ووٹ مجھے میرے والد سے جوڑ سکتا ہے،  کاش کوئی میرے سر پر ہاتھ رکھے اور کہے لگے کہ بیٹا تمہارے والد جلد ہی آئیں گے،  دنیا نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔

اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم انصاف کی لڑائی میں ہمیشہ سب سے آگے رہے گی۔ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں برابری حاصل کرنی ہے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونا ہے۔ طاہر حسین کا ساتھ دے کر انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ان کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار اور جیل میں بند دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جیل میں بند لوگوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی چاہئے۔

دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کی درخواست پر سماعت منگل (21 جنوری 2025) تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ طاہر کو اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی کی مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ انتخابی مہم کے لیے باہر آنا چاہتے ہیں۔

کراول نگراسمبلی سیٹ بی جے پی لیڈرموہن سنگھ بشٹ اورکپل مشرا کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ موہن سنگھ بشٹ 1993 کے بعد سے 5 بار الیکشن جیت چکے ہیں۔

دہلی پولیس کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالسٹرچیتن شرما نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتےہ وئے کہا کہ طاہر حسین جیل میں رہتے ہوئے بھی پرچہ نامزدگی داخل کرسکتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں ہیں، جہاں جیل سے پرچہ نامزدگی داخل کیا گیا ہے۔

طاہر حسین نے کہا کہ اس وقت عدالت میں بحث صرف الزامات عائد کرنے پر ہو رہی ہے۔ اسے مکمل ہونے میں کافی وقت لگنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اور ملزم کی درخواست پر، ہائی کورٹ نے فی الحال اس عدالت کو الزامات طے کرنے کے احکامات دینے سے روک دیا ہے۔