Bharat Express DD Free Dish

Syed Sadatullah Husaini

جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دو روزہ قصص 2.0 میڈیا ماسٹری بوٹ کیمپ میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے مسلمانوں کے وسیع تر سماج  سے براہ راست تعامل اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے یہاں اپنے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر طرح کی انتہاپسندی اور تشدد کی جماعت کی دوٹوک مذمت دہراتے ہوئے متعدد قومی مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی، جن پر فوری حکومتی توجہ درکار ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جو اچھے تعلقاتِ ہمسایگی کی بنیاد پر قائم ہو ، وہ خود بخود ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ جب لوگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نرمی، درگزر اور انصاف سے پیش آتے ہیں تو یہ رویہ پورے سماج میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں وقف ہیلپ ڈیسک ( بیک اینڈ سپورٹ سسٹم )  کا افتتاح عمل میں آیا۔ہیلپ ڈیسک کے ذریعے اوقاف کے متولیان، آئمہ مساجد اور دینی اداروں کے ذمہ داران ہیلپ ڈیسک سے براہ راست رابطہ کرکے مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں طویل خونریزی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو ایک ’مثبت اور امید افزا قدم ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں اصولی اور فعال کردار ادا کرے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اورمہاراشٹر کی پوری بستیاں بہہ گئیں۔ کسانوں کی سینکڑوں کروڑ کی کھیتیاں تباہ ہوئیں، خاندان بے گھر ہوگئے اور بنیادی سہولتیں بیٹھ گئیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں نے اس آفت کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔

بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔

ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری پر اسرائیل کا بلا اشتعال حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘