JIH Qasas 2.0: مسلمان وسیع تر سماج سے تعامل، مکالمہ اور عوامی ذہن سازی کے لیے محنت کریں : امیر جماعت اسلامی ہند
جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دو روزہ قصص 2.0 میڈیا ماسٹری بوٹ کیمپ میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے مسلمانوں کے وسیع تر سماج سے براہ راست تعامل اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
Ameer JIH condemned extremism: جماعت اسلامی ہند کے امیر نے انتہا پسندی کی مذمت کی؛ لال قلعہ دھماکے سے متعلق سیکورٹی کی ناکامی اور کمیونٹی سے متعلق فکر پر اٹھائے سوال
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے یہاں اپنے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر طرح کی انتہاپسندی اور تشدد کی جماعت کی دوٹوک مذمت دہراتے ہوئے متعدد قومی مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی، جن پر فوری حکومتی توجہ درکار ہے۔
Campaign for the Rights of Neighbours: پڑوسیوں کے حقوق پر جماعت اسلامی ہند نے دس روزہ ملک گیر مہم کا کیا آغاز
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جو اچھے تعلقاتِ ہمسایگی کی بنیاد پر قائم ہو ، وہ خود بخود ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ جب لوگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نرمی، درگزر اور انصاف سے پیش آتے ہیں تو یہ رویہ پورے سماج میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
Waqf help desk at Jamaat-e-Islami Hind: جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں ’وقف ہیلپ ڈیسک ‘ کا افتتاح، امیر جماعت نے کہا، ’’اوقاف کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا ‘‘
جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں وقف ہیلپ ڈیسک ( بیک اینڈ سپورٹ سسٹم ) کا افتتاح عمل میں آیا۔ہیلپ ڈیسک کے ذریعے اوقاف کے متولیان، آئمہ مساجد اور دینی اداروں کے ذمہ داران ہیلپ ڈیسک سے براہ راست رابطہ کرکے مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔
Jamaat-e-Islami Hind Welcomes Gaza Ceasefire : جماعت اسلامی ہند نے غزہ جنگ بندی کا کیا خیر مقدم، امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ کی تعمیر نو، انصاف اور حقیقی فلسطینی خودمختاری کا کیا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں طویل خونریزی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو ایک ’مثبت اور امید افزا قدم ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں اصولی اور فعال کردار ادا کرے۔
امریکی ٹیرف اورملک کی مختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پرجماعت اسلامی جماعت کا تشویش کا اظہار، سید سعادت اللہ حسینی نے کیا یہ بڑا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اورمہاراشٹر کی پوری بستیاں بہہ گئیں۔ کسانوں کی سینکڑوں کروڑ کی کھیتیاں تباہ ہوئیں، خاندان بے گھر ہوگئے اور بنیادی سہولتیں بیٹھ گئیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں نے اس آفت کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔
India should strike a balance in its foreign policy: بھارت خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرے، امریکہ کے ساتھ ٹیرف کا تنازع باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے: امیر جماعت اسلامی ہند
بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔
Jamat-e-Islami on Gaza Genocide: غزہ قتل عام پرعرب ممالک کے رویہ مایوس کن، پوری دنیا کو آنا چاہئے آگے، جماعت اسلامی ہند کے امیر نے اٹھایا سوال، دیکھیں ویڈیو
ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔
JIH Urges India World to Halt Gaza Catastrophe: غزہ میں جاری نسل کشی کی سخت مذمت، جماعت اسلامی کی حکومت ہند اورعالمی طاقتوں سے بڑی اپیل
جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔
Israel’s attack on Iran: جماعت اسلامی ہند نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، سید سعادت اللہ حسینی نے اسے ایک لاپرواہ جنگی عمل قرار دیا
میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری پر اسرائیل کا بلا اشتعال حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘





