Bharat Express DD Free Dish

Suicide Bomber

شمال-مغربی پاکستان میں ہوئے خودکش حملے میں فوج کے 12 جوان سمیت کم ازکم 15 افراد کی موت ہوگئی۔ پاکستانی فوج کی میڈیا ونگ نے کہا، ’’خیبرپختونخوا میں ہوئے اس خودکش حملے میں 15 افراد کی جان گئی ہے، جس میں 12 فوج کے جوان، دوپولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سابق سرکاری افسر شامل ہے۔

حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں ہے اور میڈیا رسائی محدود کر دی گئی ہے ۔سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔

دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے درمیان، افغان سکیورٹی فورسز کے ذریعے پاکستان پر آٹھ حملوں میں 13 پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران وزیرستان میں دو خودکش بم دھماکے بھی ہوئے۔

پاکستان کے خیبرپختونخوا میں ہفتہ کے روزایک خود کش حملے میں 13 فوجی مارے گئے اور10 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں ہوا، جہاں ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں ایک خودکش حملہ ہوا ہے۔ اس باراسکول بس کونشانہ بنایا گیا ہے، جس میں چاربچوں کی موت ہوگئی ہے۔

 پاکستان میں فوجی اہلکاروں کو لانے لے جانے کے لئے اکثر ٹرک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی ہے۔