Bharat Express DD Free Dish

SpiceJet

ذرائع کے مطابق ٹکر کے نتیجے میں اسپائس جیٹ کے طیارے کے دائیں وِنگ کو نقصان پہنچا، جبکہ اکاسا ایئر کے طیارے کے بائیں اسٹیبلائزر پر بھی اثر پڑا۔ حادثے کے بعد فوری طور پر ایئرپورٹ حکام اور تکنیکی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور دونوں طیاروں کا معائنہ شروع کر دیا گیا۔

نئی دہلی سے لیہ جانے والی اسپائس جیٹ کی ایک مسافر طیارہ کو ٹیک آف کے چند ہی منٹ بعد تکنیکی خرابی کے باعث ہنگامی طور پر واپس لینڈ کرانا پڑا۔ دوران پرواز طیارے کے ایک حصے سے چنگاری اور دھواں نما آثار دیکھے جانے کے بعد پائلٹ نے فوری احتیاطی فیصلہ لیتے ہوئے طیارے کو واپس دہلی ایئرپورٹ لے آنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد مسافروں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسپائس جیٹ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر اجے سنگھ نے چندن سینڈ کو سپائس جیٹ بورڈ میں ان کی تقرری پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے ساتھ چندن سینڈ کی دیرینہ وابستگی اور اس کی متنوع مہارت انہیں ہمارے بورڈ کا ایک قابل قدر رکن بناتی ہے،

دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہ ملنے پر ہوا بازی کمپنی اسپائس جیٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اسپائس جیٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

ایئر لائن کمپنی اسپائس جیٹ کے ترجمان نے کہا کہ فلائٹ سروس کو منسوخ کی وجہ یہ تھی کہ ایودھیا جانے والے مسافروں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی آئی تھی اور اس کی مانگ میں کافی کمی آئی تھی۔

اتوار کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بی سی اے ایس نے ایئر لائنز سے کہا ہے کہ وہ 26 فروری تک سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کریں۔

ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ کو کم مرئی حالت میں کام کرنے کے لیے تربیت یافتہ پائلٹوں کو تعینات نہ کرنے، دہلی ہوائی اڈے پر دسمبر کے آخر میں گھنی دھند کے درمیان مختلف پروازوں کے راستوں کو موڑنے کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔

دوسری جانب ساتھی مسافروں نے دعویٰ کیا کہ طیارے میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ حالانکہ مسافر نے بعد میں تحریری طور پر معافی مانگی