Bharat Express DD Free Dish

Spain

امریکہ اور ہندوستان علمی ملکیت کے نظام کو مضبوط بنا  رہے ہیں تاکہ جدّت  کے تحفظ کو یقینی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں قابلِ اعتماد تعاون  کوممکن بنایا جاسکے۔

اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔

انڈالوسیا کے علاقائی وزیر صحت انتونیو سانز نے بتایا کہ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 21 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور 73 زخمی مسافروں کو چھ مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ میڈرڈ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی پر یورپ میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ اور فرانس سمیت کئی دیگر مغربی ممالک نے حال ہی میں فلسطینیوں کو فضائی راستے سے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان یہ ایسوسی ایشن معاہدہ تجارت، سیاسی مکالمے، اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے آرٹیکل 2 میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام کو معاہدے کا "لازمی جزو" قرار دیا گیا ہے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈروسانچزنےغزہ پرانسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اورکہا کہ غزہ میں تشدد کے چکرکوروکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اورناقابل قبول ہے اوریہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اسپین کے صدر پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پر لکھا، "پورا سپین ان لوگوں کے درد کو محسوس کر سکتا ہے جو اس سیلاب میں اپنے اہل خانہ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم تمام ضروری وسائل استعمال کر رہے ہیں،تاکہ اس پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے۔

یورپ میں کئی برسوں کے بدترین سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے حکام نے معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔