Bharat Express DD Free Dish

Sonam Raghuvanshi

سونم کی جانب سے پیش وکیل نے کہا کہ وہ اس وقت شیلانگ میں موجود ہے اورضمانت کی تمام شرائط پرعمل کررہی ہے، اس لئے اسے دوبارہ جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے یہ دلیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کے حقائق اورالزام کی سنگینی کودیکھتے ہوئے اس کا ضمانت پرباہررہنا مناسب نہیں ہے۔

عدالت نے سونم کے وکیل سے کہا کہ وہ جمعرات تک یہ بتائیں کہ ان کی موکلہ عبوری طور پر سرینڈر کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ جب وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالت نے سونم پر شیلانگ میں رہنے اور روزانہ سماعت میں حاضر ہونے جیسی سخت شرائط عائد کی ہیں،

 راجا رگھونشی قتل معاملے میں سونم رگھونشی کی ضمانت پرسپریم کورٹ نے فی الحال روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 10 جولائی کو ہوگی۔

ایس آئی ٹی عدالت میں چارج شیٹ داخل کر چکی ہے، جس میں سونم رگھونشی کے علاوہ راج کشواہا، وشال سنگھ چوہان، آشیش سنگھ راجپوت اور آنند کرمی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ تمام ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 103(1)، 238(a) اور 61(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جاوید اخترنے حال ہی میں ان دوحادثات پراپنے ردعمل کا اظہارکیا ہے، جن میں عورتوں نے اپنے شوہرکے قتل کی سازش کی تھی۔ ان معاملوں سے متعلق سماج میں جوغصہ نظرآرہا ہے، اس پرجاوید اخترنے کہا کہ اس پران کا ملا جلا ردعمل ہے۔

اندور کے تاجر راجہ رگھوونشی کی مسخ شدہ لاش 2 جون کو مشرقی خاصی ہلز ضلع کے سوہرا-چیراپنجی علاقے میں وی ساوڈونگ پارکنگ لاٹ کے نیچے سے ایک کھائی سے برآمد ہوئی تھی۔ جیسے جیسے کیس کی تفتیش آگے بڑھی، شک کی سوئی سونم کی طرف مڑ گئی۔ اس دوران سونم نے یوپی کے غازی پور میں پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ سونم اس واقعے کی ماسٹر مائنڈ تھی۔

سونم نے راجہ سے ڈبل ڈیکر پل گھومنے کے لیے کہا تھا۔ یہاں جانے کے دو راستے ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سونم نے مشکل راستہ چنا اور آسان راستہ چھوڑ دیا۔ سونم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں پوری طرح ملوث تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ معاملہ لو اینگل کا لگتا ہے۔

سونم رگھوونشی پلان بی کے تحت پوری تیاری کے ساتھ میگھالیہ پہنچی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر کنٹریکٹ کلرز نے انہیں قتل نہیں کیا تو

راج کشواہا وہاں موجود تھا،جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ کسی بھی عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ستم ظریفی ہے کہ قاتل خود مقتول کی چتا کے پاس کھڑا ہو کر ماتم کر رہا تھا۔ یہ سراغ پولیس کے لیے بہت اہم ہے،

سونم نے راج کشواہا سے کہا تھا کہ چلو راجہ کو مار ڈالیں، ہم ڈکیتی کی کہانی بنائیں گے پھر میں بیوہ ہو جاؤں گی اور والد بھی ہماری شادی کو منظور کر لیں گے۔ یہ سازش اتنی خطرناک تھی کہ سننے والوں کی روح  کانپ گئی ۔