Bharat Express DD Free Dish

Shubhanshu Shukla

شبھانشو شکلا کا مشن اصل میں 14 دن کا تھا، لیکن اسے بڑھا کر 18 دن کر دیا گیا، جس سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر اضافی سائنسی تحقیق کا موقع مل سکا۔ 1984 میں راکیش شرما کے تاریخی مشن کے بعد، ایکسیوم-4 مشن نے شبھانشو شکلا کو خلا کا سفر کرنے والا دوسرا بھارتی خلا باز بنا دیا ہے۔

یہ سفر شبھانشو شکلا کے لیے ایک تاریخی سفر رہا ہے۔ وہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کا سفر کرنے والے پہلے بھارتی بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ راکیش شرما (سال 1984) کے بعد خلا میں جانے والے صرف دوسرے بھارتی بنے ہیں۔

شبھانشو شکلا کی بہن شوچی مشرا نے کہا کہ سچ کہوں تو میں کل رات سو نہیں پائی اور ان کے اترنے کو لے کر بہت پرجوش ہوں۔ تمام کنبہ کے لوگ کل سے بھائی کی زمین پر واپسی کے لیے پوجا ارچنا کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جس طرح وہ باقی تمام مراحل کو پار کر چکے ہیں، اسی طرح وہ اس مرحلے کو بھی عبور کر لیں گے۔

شبھانشو شکلا اور ان کی ٹیم کی محفوظ واپسی پر ناسا اور اسپیس ایکس کے کنٹرول سینٹر کی کڑی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ وہیں بھارت میں شبھانشو شکلا کے ساتھ ساتھ پورا ملک اس مشن کی واپسی کا شدت سے منتظر ہے۔

ناسا کے خلانورد جانی کم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کئی تصاویر شیئر کی ہیں، جن میں شبھانشو شکلا بھی نظر آ رہے ہیں۔ ان تصاویر میں کل 8 خلا باز نظر آ رہے ہیں۔

مشن کے دوران ٹیم کے ارکان نے خلاء میں سائنسی تحقیق، نئی ٹیکنالوجیز کے تجربات اور عالمی شعور بیداری مہمات میں حصہ لیا۔ Axiom Space کے مشن بلاگ کے مطابق کمانڈر پیگی وٹسن، پائلٹ گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا اور مشن اسپیشلسٹ سلاووژ سُیوف اُزننسکی-وسنیوسکی و تیبور کاپو نے مشن کے اہم سائنسی اہداف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خلابازوں کی تربیت بھی بڑے پیمانے پر گھریلو ہو جائے گی۔ جبکہ شرما نے سوویت یونین میں تربیت حاصل کی، اور شکلا نے اس مشن کے لیے جزوی طور پر امریکہ میں تربیت حاصل کی، بھارت کے پاس اب بنگلورو میں خلائی مسافروں کی تربیت کی ایک خصوصی سہولت موجود ہے، جسے آنے والے سالوں میں بڑھایا جائے گا۔ اس سے مستقبل کے ہندوستانی خلابازوں کا انتخاب، تربیت اور آبائی سرزمین سے پرواز کی جا سکے گی۔

ایکسیوم  اسپیس، جس کا صدر دفتر ہیوسٹن میں ہے، ایکسیوم  سٹیشن بنا رہا ہے - جسے دنیا کا پہلا تجارتی خلائی اسٹیشن بننے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کے تازہ ترین عملے کے مشن Ax-4 میں ہندوستان، پولینڈ، ہنگری اور امریکہ کے خلاباز شامل ہیں۔

شوبھانشو نے بتایا کہ جب ڈریگن خلائی جہاز لانچ کے 10 منٹ بعد راکٹ سے الگ ہوا تو میں نے کھڑکی سے سورج کی چمک اور ستارے دیکھے۔ یہ میرے لیے ناقابل یقین تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے عملے کے ساتھ ہنسی اور مذاق کیا اور یوگا کے کچھ آسن آزمائے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس او-4 مشن کے لئے سبھی خلائی مسافروں کونیک خواہشات پیش کی ہیں۔ انہوں نے اس دوران شبھانشو شکلا کے لئے خاص پیغام (اسپیشل میسیج) دیا ہے۔