Bharat Express DD Free Dish

Sheikh Hasina case

بنگلہ دیش میں 2024 کے سیاسی بحران کے دوران جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اب اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کی یاد دلائی اور خبردار کیا کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ جلد بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔ ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی عوامی لیگ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت پر معیشت کو بحران میں ڈالنے کا الزام لگایا۔

حالیہ انتخابات کے فوری بعد عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں نے سب سے پہلے کھلنا شہر میں اپنا دفتر کھولا ہے، جہاں شیخ مجیب الرحمٰن اور شیخ حسینہ کی تصاویر نصب کی گئی ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔

بنگلہ دیش سے ایک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ عدالت نے شیخ حسینہ کو ایک مقدمے میں 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کی بہن ریحانہ کو 7 سال اور برطانیہ کی رکنِ پارلیمنٹ کو 2 سال کی سزا دی گئی ہے۔

بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر اکیس سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل (آئی سی ٹی) کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے بعد ملک کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بیٹے اور عوامی لیگ پارٹی کے اہم لیڈر ساجیب احمد واجد نے اس فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یونُس حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل بنگلہ دیش آج شیخ حسینہ کے مقدمے کا فیصلہ سنائے گا۔ ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کو فائرنگ کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔