Bharat Express DD Free Dish

Rohingya

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے قبل ازیں اسی طرح کی ایک درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں دہلی حکومت کو روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی تھی۔

ایل جی  کی طرف سے کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے ایک سنجیدہ مجرمانہ واقعہ  کا حوالہ دیا جس میں ایک بنگلہ دیشی شہری مبینہ طور پر ایک گھر میں گھسنے کے بعد مجرمانہ حملے میں ملوث تھا۔

پناہ گزینوں کے انچارج ایک سینیئر اہلکار محمد شمس دوزہ نے کہا کہ ’ہمارے پاس معلومات ہیں کہ زیادہ تر پچھلے دو مہینوں کے دوران تقریباً آٹھ ہزار روہنگیا بنگلہ دیش میں داخل ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ’بنگلہ دیش پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ سے دب گیا ہے۔

حکم کے مطابق، پینل کو ماہانہ رپورٹ تیار کرنی ہوگی اور اسے ہر ماہ کی 5 تاریخ تک مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کرنا ہوگی۔ محکمہ داخلہ نے پینل کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکیوں کا پتہ لگانے اور ملک بدر کرنے کی کوششوں کی نگرانی  کی بھی ہدایت کی ہے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ "غیر قانونی تارکین وطن ہونے کے ناطے روہنگیا آئین کے حصہ سوئم کے تحت تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتے کیونکہ حصہ سوئم صرف ملک کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے غیر قانونی تارکین وطن کو نہیں۔یہ لوگ  زندگی اور آزادی اور ہندوستان میں رہنے یا آباد ہونے کے بنیادی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

بی جے پی کے ذریعہ روہنگیا درانداز بتائے گئے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ممتا نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں دیں گے۔

آئی جی پی نے کہا کہ 5000 سے زیادہ لوگوں نے سرحد کے قریب دو دیہاتوں میں پناہ لی اور ہمارے تقریباً 20 شہری زخمی بھی ہوئے۔ ان میں سے آٹھ کو بہتر علاج کے لیے ایزول بھیجا گیا ہے۔ کل شام گولی لگنے سے ایک شخص جاں بحق بھی ہوگیا۔ اب کافی امن ہے، لیکن ہم نہیں جانتے کہ میانمار کی فوج فضائی حملے کرے گی یا نہیں۔