Bharat Express DD Free Dish

Renewable energy

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق ’’اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں اس طرح کے منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اس اسکیم کے ذریعے توانائی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

راجیو جونیجا نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں، مقامی کرنسی میں لین دین، ہنرمندی کی ترقی اور اختراع پر مبنی ترقی پر زور اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں

ہندوستان کی صاف ستھری توانائی کی تاریخی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہندوستان نے رواں مالی سال میں 31.25 گیگاواٹ غیرروایتی ایندھن کی صلاحیت کا اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس میں 24.28 گیگاواٹ شمسی توانائی شامل ہے ۔

بھارت کے گرین ہائیڈروجن کے عزائم کو اس کی صاف توانائی منتقلی کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف ملکی مانگ کو پورا کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایک اہم برآمد کنندہ بننا بھی ہے۔

مرکزی وزیر نے بھارت کی قابل تجدید توانائی میں پیش رفت کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا ثمر قرار دیا اور کہا کہ ریاستیں بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے اور FY32 تک اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہوں گے

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹوں جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ پُرامید ہیں کہ بھارت 2030 تک 500 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کے ہدف کو حاصل کر لے گا۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت میں 21,151 میگاواٹ شمسی اور 3,976 میگاواٹ ہوائی توانائی کی پیداواری صلاحیت شامل کی گئی، جس سے مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھ کر تقریباً 237.5 گیگاواٹ ہو گئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ اضافہ نمایاں ہے، جب 13,889 میگاواٹ شمسی اور 2,339 میگاواٹ ہوائی توانائی شامل کی گئی تھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔