Bharat Express DD Free Dish

Raj Thackeray

دریں اثنا سی ایم فڈنویس نے یہ بھی کہا کہ حالاں کہ ٹھاکرے برادران نے مراٹھی کا جشن منانے کے لیے یہ ریلی کی تھی، تاہم اس ریلی میں ادھو ٹھاکرے نے سیاست کی بات کرنے کا انتخاب کیا۔

راج ٹھاکرے نے کہا کہ جب ہمارے بچے انگلش میڈیم میں جاتے ہیں تو ہماری مراٹھی پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایل کے اڈوانی مشنری اسکول میں پڑھے ہیں، تو کیا ان کے ہندوتوا پر سوال اٹھائیں؟ ہم ہندی تھوپنا برداشت نہیں کریں گے۔ وہ صرف ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنا چاہتے ہیں، یہی ان کا ایجنڈا ہے۔

ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے پہلے مہاراشٹر میں سہ لسانی پالیسی کو لے کر الگ الگ احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ، اب دونوں لیڈران ایک ساتھ ریلی کر رہے ہیں۔ اس دوران، مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے زبان کو لے کر تنازع بڑھنے کے بعد ریاست میں سہ لسانی پالیسی واپس لے لی ہے۔

اب راج اور ادھو ٹھاکرے نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے۔ دونوں جماعتیں پہلے الگ الگ احتجاج کرنے جا رہی تھیں لیکن اب مل کر کریں گی۔

مہاراشٹر کے سیاسی گلیاروں میں راج ٹھاکرے کے اگلے قدم سے متعلق تعطل برقرار ہے۔ اس درمیان سنجے راؤت نے راج ٹھاکرے سے اتحاد پر کہا کہ سب کچھ پٹری پرہے۔

ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے شیوسینا یوبی ٹی کے صدراور چچا زاد بھائی ادھو ٹھاکرے سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرمہاراشٹر کے مفاد کے لئے ہمیں ایک ہونا ہوگا تو میں اس کے لئے تیارہوں۔

اس سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں مراٹھی بولنا ضروری ہے، لیکن ’’ہمیں باقی ملک سے جڑنے کے لیے ہندی بھی سیکھنی چاہیے۔‘‘

راج ٹھاکرے نے آج (25 نومبر) کو اپنے گھر پر پارٹی لیڈروں کی ایک خود شناسی میٹنگ بلائی ہے۔ انتخابات میں ناقص کارکردگی اور مزید حکمت عملی پر بات ہو سکتی ہے۔ دادر میں آج صبح 11 بجے میٹنگ ہوگی۔

مہاراشٹر کو پی ایم نریندر مودی سے اسٹنٹ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اسٹنٹ  بازی  بی جے پی میں ہوتی ہے اور اس کے رجنی کانت وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ جس طرح رجنی کانت اسٹنٹ کرتے ہیں اسی طرح پی ایم مودی بھی سیاست میں اسٹنٹ کرتے ہیں۔

راج ٹھاکرے نے کہا، حقیقی ترقی کے لیے ایم این ایس کو ووٹ دیں۔ ان کی پارٹی اقتدار میں آنے کے 48 گھنٹوں کے اندر مساجد پر لاؤڈ اسپیکر کا مسئلہ حل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ک مذہبی سرگرمیوں سے دوسروں کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔