Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے ملک کی 292 سیٹوں کے لیے سروے کیا گیا ہے۔ جس میں سروے کا سیمپل سائز 44 ہزار 548 افراد تھا۔ جس میں خواتین کی تعداد 20677 اور مردوں کی تعداد 23 ہزار 871 ہے۔

کانگریس نے بدھ (26 جولائی) کو منی پور تشدد کے معاملے پر پارلیمنٹ میں تعطل کے درمیان لوک سبھا میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے بحث کے لیے منظور بھی کر لیا۔

بی جے پی آر ایس ایس صرف اقتدار چاہتی ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اقتدار کے لیے وہ منی پور کو جلا دیں گے، پورے ملک کو جلا دیں گے۔ انہیں ملک کے دکھ درد کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ راہل نے کہا کہ آر ایس ایس-بی جے پی اور کانگریس کے درمیان نظریاتی جنگ چل رہی ہے۔

لوک سبھا الیکشن میں کم وقت ہونے کے سبب راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا-2 شروع کرنے جا رہے ہیں، جس کا آغاز 15 اگست سے ہو سکتا ہے۔

کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بھی پی ایم پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا، ''آپ کانگریس کی مخالفت کرنے میں اتنے اندھے ہو گئے ہیں کہ آپ خود ہندوستان سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ آج آپنے مایوسی کے عالم میں خود انڈیا پر ہی حملہ کر دیا ہے۔

آج منی پور جل رہا ہے ۔ منی پورر کی بات ہم کررہے ہیں اور پی ایم مودی ایسٹ انڈیا کی بات کررہے ہیں ۔ پی ایم مودی ایوان میں کیوں نہیں بولتے ہیں ۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ اگر سرکار بحث کیلئے تیار ہے تو آخر267 پر بحث کیوں نہیں کرتے۔

اپریل 2019 کو کرناٹک کے کولار میں ایک انتخابی ریلی کے دوران راہل گاندھی نے تبصرہ کیا تھا کہ تمام چوروں کی کنیت مودی ہی کیوں ہے؟ گجرات حکومت کے سابق وزیر اور بی جے پی لیڈر پرنیش مودی نے اس تبصرہ پر ان کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے متعلق مجرمانہ ہتک عزت معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس گوئی کی بینچ نے پورنیش مودی اور گجرات حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ آئندہ سماعت اب 4 اگست کو ہوگی۔

راہل گاندھی نے 15 جولائی کو سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اگر حکم امتناعی پر روک نہیں لگائی گئی تو اس سے آزادی اظہار، آزادی اظہار، آزاد خیال اور آزاد بیان کا دم گھٹ جائے گا۔

اپوزیشن کی اس میٹنگ میں ایک طرف جہاں نام پر حتمی فیصلہ کیا گیا وہیں دوسری جانب کوآرڈینیشن کمیٹی، سیکریٹریٹ اور مشترکہ مہم پر بھی بات کی گئی ۔ اس دوران یہ طے کیا گیا کہ تین کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ ایک کامن مینمم ایجنڈے کیلئے ذیلی کمیٹی۔ دوسری انتخابی مہم کیلئے ذیلی کمیٹی اورتیسری رابطہ کمیٹی بنائی جائے گی۔