Bharat Express DD Free Dish

Rafale

ایئر شو میں چنئی اور گوالیار سمیت ملک کے 12 ایئر بیس سے طیاروں نے اڑان بھری۔ کاشی میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر فضائی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں لڑاکا طیاروں سے لے کر نقل و حمل کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں تک نے حصہ لیا۔ایئر شو میں رافیل، میراج 2000، سکھوئی، مگ 29 اور جیگوار جیسے لڑاکا طیارے شامل ہوئے۔

وارانسی میں پروگرام مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم پولیس لائن سے بابَت پور ہوائی اڈے پہنچیں گے۔ یہاں سے وہ اڈیشہ کے دارالحکومت بھونیشور کے لیے روانہ ہوں گے۔بھونیشور میں وزیر اعظم بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی تربیتی ادارے کا افتتاح کریں گے۔

فضائی مظاہرے میں شامل ’پرچنڈ فارمیشن‘ نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت، تیاری اور درست نشانہ لگانے کی قوت کو نمایاں کیا۔ اس فارمیشن کے ذریعے اگلی صف کے لڑاکا طیاروں کی عملی صلاحیت اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے فیصلہ کن فضائی طاقت استعمال کرنے کی اہلیت کو اجاگر کیا گیا۔

بھارتی بحریہ کو رافیل مرین ٹرینر جیٹس 2028 کے بجائے 2026 میں ہی ملنا شروع ہو جائیں گے، جس سے بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لڑاکا طیاروں کے استعمال کی تیاری کا موقع ملے گا اور سمندری دفاعی نظام مزید مضبوط ہوگا۔

دفاعی وزارت نے بھارتی فضائیہ کے لیے 114 رافیل فائٹر جیٹ اور 6 امریکی P-8I جاسوسی طیاروں کی ڈیل کو منظوری دے دی ہے۔ اس میگا دفاعی ڈیل کی کل مالیت تقریباً 3.25 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی ڈیلز میں شمار ہوتی ہے۔

یہ شمال مشرقی بھارت میں ایکسپریس وے پر بننے والی پہلی ایمرجنسی لینڈنگ فیسلٹی ہے۔اس اہم منصوبے کا افتتاح 14 فروری کو وزیراعظم نریندر مودی کریں گے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر بھارتی فضائیہ اپنی طاقت کا شاندار مظاہرہ بھی کرے گی۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے رفال طیارے کی فروخت روکنے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ فرضی تصاویر وائرل کیں، تاکہ اپنے جے-35 لڑاکا طیارے کو فروخت کیا جاسکے۔

اس معاہدے کے تحت بحریہ کو 22 سنگل سیٹر اور 4 ٹوئن سیٹر رافیل سمندری طیارے ملیں گے، جنہیں طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت پر تعینات کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد اب وزارت دفاع فرانسیسی حکومت کے ساتھ معاہدے کا عمل مکمل کرے گی۔

معلومات کے مطابق رافیل لڑاکا طیاروں کا ایک سکواڈرن پاکستان کے ساتھ مغربی سرحد اور شمالی سرحد کی نگرانی کرے گا۔ جبکہ ایک اور سکواڈرن بھارت کے مشرقی سرحدی علاقے کی نگرانی کرے گا۔