Bharat Express DD Free Dish

Punjab Flood

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عوامی انتظامیہ کی مؤثر صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (ایم جی ایس آئی پی اے)، حکومتِ پنجاب اور انڈو-تبتی بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ ان سرچ، ریسکیو اینڈ ڈیزاسٹر ریسپانس (این آئی ٹی ایس آر ڈی آر) کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

سکھ بھائیوں نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سفید وکالی دھاری والے جھنڈے دیکھتے ہیں توسمجھ جاتے ہیں کہ یہ قافلہ ہماری مدد کے لیے آیا ہے۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اسلام ہمیں خدمت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور امدادی کام متاثرین کے مکمل خود انحصاری تک جاری رہے گا۔

ریلیانس کی ٹیمیں ضلعی انتظامیہ، محکمہ حیوانات اور مقامی پنچایتوں کے ساتھ قریبی تعاون میں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ فوری اور زندگی بچانے والی امداد فراہم کی جا سکے، جبکہ درمیانی مدت کی بحالی کے اقدامات کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ جیو پنجاب کی ٹیم نے این ڈی آر ایف (NDRF) کی ٹیموں کے ساتھ ہم آہنگی میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نیٹ ورک کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی، اور پورے صوبے میں 100 فیصد قابلِ اعتماد کنیکٹیویٹی کو یقینی بنایا۔

میوات کے لوگوں نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی  ہے۔ سکھ فرقہ کے رہنماؤں نے مولانا ارشد مدنی کی انسانی خدمات کو سراہا۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ کا یہی کردار ہے وہ اپنا ہرکام مذہب سے اوپراٹھ کرمحض انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے۔

جماعت اسلامی کی ٹیم نے سکھ قائدین، گورنمنٹ نوڈل افسران اور متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کیں اور ان کی فوری ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ متاثرہ افراد سے بات چیت میں سیلاب زدگان کو بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت اور طریقہ کار پر گفتگو کی گئی۔

پنجاب بی جے پی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا:"پی ایم  نریندر مودی 9 ستمبر کو پنجاب کے ضلع گرداسپور آئیں گے۔ وہ سیلاب متاثرین سے براہِ راست ملاقات کریں گے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں گے، اور ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔"

پنجاب کے وزیر تعلیم سیلاب متاثرین کو جلد از جلد امدادی کام فراہم کرنے کے لیے خود زمین پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی سیلابی تباہی ہے۔ پنجاب کو دریائے راوی، بیاس اور ستلج کی تباہی کا سامنا ہے۔

دلجیت کے علاوہ دیگر نامور فنکار بھی متاثرین کی امداد کے لیے میدان میں آگئے ہیں۔ اداکارہ سونم باجوا نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ ’’پنجاب اور ان تمام لوگوں کے لیے دل رنجیدہ ہے جو اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘

پنجاب کے وزیر بجلی ہربھجن سنگھ نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ تمام 595 علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔