Bharat Express DD Free Dish

Pulwama

منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2019 کو جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مرکزی ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس میں 40 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی۔

پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے سیکورٹی ایجنسیاں اب اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کب سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھا کن کن دہشت گردوں سے اس کے رابطے تھے

پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر عمر النبی مبینہ طور پر اُس کار میں موجود تھا جو دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کا شکار ہوئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمر کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق فرید آباد کے ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے بھی ہو سکتا ہے۔

مسلسل چار دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث علاقے کے بڑے حصے میں پانی جمع ہونے کے بعد نچلے علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران، جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں سانحہ پیش آیا، جہاں ویشنو دیوی یاترا کا راستہ لینڈ سلائیڈ کی زد میں آ گیا۔

جموں و کشمیر پولیس نے پلوامہ ضلع میں آئی ای ڈی برآمد کیا ہے۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے اسے بے اثر کرتے ہوئے دہشت گردی کی ایک بڑی واردات کو ٹالا۔

اہلکاروں نے بتایا جمعہ وہفتہ کی درمیا نی رات قریب صبح 2 بجے گولی چلنے کی آواز آنے کے بعد جنوبی کشمیر کے ضلع اونتی پورا علاقتے کے چوسور علاقہ میں کانسٹیبل  اجے کمارمردہ پایا گیا ۔

این آئی اے نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی، تشدد اور تخریب کاری سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دینے میں مختلف تنظیموں کے ارکان اور ان کے مددگاروں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے 21 جون 2022 از خود نوٹس لینے کے بعد مقدمہ درج کیا تھا۔

گزشتہ تین سالوں سے لیوینڈر کی کاشت کر رہیں پلوامہ کی رہائشی سیرت جان نے کہا، "ہم روزانہ کم از کم ایک کوئنٹل خام مال جمع کر کے تقریباً 370 روپے کماتے ہیں۔

 اننت ناگ میں ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف منگل کی شام کو جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے کینڈل لائٹ مارچ نکالا اور شہری ہلاکت میں ملوث افراد کو جلدا زجلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔