Bharat Express DD Free Dish

Puducherry Elections

وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گجرات کے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی کو بھی شاندار قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے عوام نے ہمیشہ سیاسی استحکام کو ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاست مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا این آر کانگریس 9 سیٹوں پر آگے ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2 سیٹوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک سیٹ پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو محدود کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، ڈی ایم کے اور اے ڈی ایم کے ایک-ایک سیٹ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں آج جمہوریت کا سب سے بڑا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ Bharatexpress.com پر کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج دیکھیں

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات 2026 کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولس میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت والا اتحاد پیچھے رہتا نظر آ رہا ہے۔

مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولز اور اصل نتائج کا ریکارڈ مختلف رہا ہے۔ جانیے کن ریاستوں میں اندازے درست ثابت ہوئے اور کہاں یہ مکمل طور پر ناکام رہے؟

تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

بین الاقوامی مندوبین کی موجودگی کو بھارت کے انتخابی نظام کی شفافیت اور مضبوطی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے پروگرام عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے فروغ اور انتخابی نظام پر اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔