PM Modi’s advice on yield concerns: پیداوار کی فکر پر پی ایم مودی کا مشورہ، چھوٹے حصے سے شروع کریں قدرتی کھیتی، نتائج دیکھیں پھر اسے دیں وسعت
ویڈیو میں فصل بیمہ یوجنا، کسان سمان ندھی اور اب دھن-دھانیا یوجنا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا طریقۂ کار کسانوں کو عزت، تحفظ اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔ کسان دِوس پر کرشن کمار جیسی کہانیاں یہ یاد دلاتی ہیں کہ بااختیار کسان ہی مضبوط ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔
PM Modi arrives in Addis Ababa: وزیراعظم مودی پہنچے ادیس ابابا، ایتھوپیا کے وزیراعظم نے ہوائی اڈے پر کیا استقبال
وزیراعظم مودی ایتھوپیا میں مقیم بھارتی برادری کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور ایتھوپیائی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ 2011 کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا ایتھوپیا کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم مودی کے اعزاز میں ادیس ابابا کو استقبالی ہورڈنگز، پوسٹروں اور بھارتی پرچموں سے سجایا گیا ہے۔
Today History: کب پہلی بار نظر آیا تھا ’مودی میجک‘، جانئے وزیر اعظم مودی کے لیے کیوں خاص ہے 15 دسمبر؟
آج سے ٹھیک 23 برس قبل، 15 دسمبر 2002 کا دن بھارتی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج ہو گیا۔ یہی وہ دن تھا جب پہلی بار عوامی سیاست میں ’مودی میجک‘ کی اصطلاح سنجیدگی سے استعمال کی جانے لگی۔ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف ریاست کی سیاسی سمت بدل دی بلکہ نریندر مودی کو ایک ایسے مضبوط عوامی لیڈر کے طور پر قائم کر دیا، جن کا اثر آگے چل کر قومی سیاست تک پہنچا۔
PM Modi Responds To EaseMyTrip Co-Founder Views On Digital India : وزیر اعظم مودی کا ایز مائی ٹرِپ کے شریک بانی کے ڈیجیٹل انڈیا سے متعلق خیالات پر ردعمل، کہا- ”یہ بالکل درست بیان ہے‘‘، اسٹارٹ اپس سے بنے گا ’وِکست بھارت‘
وزیر اعظم مودی نے ایز مائی ٹرپ کے شریک بانی رکانت پٹّی کے ان خیالات کی بھرپور تعریف کی ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈیجیٹل انڈیا نے ملک کے اسٹارٹ اپ کلچر کو ایک نئی پہچان اور غیر معمولی رفتار دی ہے۔ وزیر اعظم نے ان کی بات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو ’’وکست بھارت‘‘ بنانے کے سفر میں اسٹارٹ اپس کلیدی کردار ادا کریں گے۔
DGP–IGP Meet In Raipur: وزیراعظم نریندر مودی آج رائے پور میں ڈی جی پی–آئی جی پی کانفرنس کے اہم اجلاسوں کی کریں گے صدارت
60ویں سالانہ کانفرنس کے دوران بزنس اور اختتامی سیشنز میں شرکت، قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلوں کی توقع ہے۔ کانفرنس ملک کے سالانہ سلامتی کیلنڈر کا ایک اہم حصہ مانی جاتی ہے اور اس سال کا موضوع ہے:’وکست بھارت: سلامتی کے مختلف پہلو‘۔
PM Modi To Visit Karnataka And Goa : وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کا دورہ
وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔
PM Modi to visit Kurukshetra on Tuesday: پی ایم مودی منگل کے روز جائیں گے ہر یانہ کے کرکشیتر، متعدد پروگراموں میں کریں گے شرکت
شام تقریباً 4:30 بجے، وزیر اعظم نویں سکھ گرو، شری گرو تیگ بہادر جی کی 350 ویں شہیدی دیوس کے موقع پر ایک خصوصی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ پروگرام کے دوران وزیر اعظم گرو کے 350 ویں شہیدی دیوس کے موقع پر ایک خصوصی سکہ اور یادگار اسٹیمپ جاری کریں گے۔
PM Modi releases PMKISAN installment: پی ایم مودی نے جاری کی پی ایم کسان سمان ندھی کی قسط، 9 کروڑ کسانوں کو ملے 18,000 کروڑ روپے
وزیر اعظم نے قدرتی زراعت کو اپنے دل کے قریب قرار دیتے ہوئے سمٹ اور نمائش کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش میں کئی نوجوان کسانوں سے ملاقات ہوئی، جن میں کوئی میکینیکل انجینئر ہے، کوئی پی ایچ ڈی ہولڈر اور کوئی ناسا چھوڑ کر زراعت کر رہا ہے اور دوسروں کو تربیت دے رہا ہے۔
بھارت صرف ایک ابھرتا ہوا بازار نہیں، ایک ابھرتا ہوا ماڈل بھی ہے: پی ایم مودی
2023 میں مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے باوجود ہماری ترقی کی رفتار مستحکم رہی۔ اس سال بھی عالمی بے یقینی کے درمیان بھارت تقریباً 7 فیصد کی ترقی کی شرح برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بے یقینی اور عدم استحکام کا سامنا کر رہی ہے، بھارت ایک روشن اور امید افزا مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
JKSA writes to Prime Minister: دہلی دھماکے کے بعد کشمیری طلبہ کی تشویش، وزیراعظم کو خط لکھ کر تحفظ کا کیا مطالبہ
خط میں وزیراعظم سے اپیل کی گئی کہ وہ عوامی طور پر یہ یقین دہانی کرائیں کہ کشمیری طلبہ بھی بھارت کے مساوی شہری ہیں اور انہیں وہی حقوق اور تحفظات ملیں گے جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے اہلِ خانہ کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے بچے گھر سے دور بھی محفوظ ہیں۔ آپ کا ایک بیان یا اپیل ان خاندانوں کے دل کو سکون دے سکتا ہے۔





