Bharat Express DD Free Dish

Prashant Bhushan

مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِحراست مدت بھی رہی، جوفروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتارکئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردارادا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

مقررین نے مجوزہ حلقہ بندی، خواتین ریزرویشن بل اور انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ مقررین نے مبینہ ووٹرحذف کئے جانے، انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی اورجمہوری اداروں کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر گہری تشویش ظاہرکی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے منی پور حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار کو پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ اس پر پرشانت بھوشن نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے منی پور تشدد کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو اس خصوصی عرضی پر سماعت کرنی چاہئے۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ انتخابی بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو 1751 کروڑ روپے کا عطیہ دینے والی ان 33 کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے دیئے گئے منصوبوں اور معاہدوں سے کل 3.7 لاکھ کروڑ روپے ملے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے بانی رکن یوگیندر یادو نے کہا کہ سیاسی اتفاق رائے اور اختلاف اپنی جگہ لیکن جمہوری نظام سب سے اہم ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی کی گرفتاری اس وقار کی خلاف ورزی ہے۔

پرشانت بھوشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لیاقت علی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، راولپنڈی کے چیف الیکٹورل آفیسر نے چونکا دینے والا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھاری مارجن سے جیتنے والے امیدواروں کو ہارا قرار دے کر بڑے پیمانے پر پاکستانی عوام کو دھوکہ دیا۔

مرکز کے فیصلے کے خلاف این رام، مہوا موئترا، پرشانت بھوشن اور ایڈوکیٹ ایم ایل شرما نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف عرضی داخل کی ہے۔