Bharat Express DD Free Dish

Political Controversy

سماجوادی پارٹی سربراہ نے حکومت سے پوچھا، طلبہ کے کون سے مطالبات تسلیم کیے گئے؟ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات کیوں درج کیے جا رہے ہیں؟ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک حکومت کی کوششوں سے ختم ہوئی یا حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرکے پسپائی اختیار کی؟

پولیس کی مبینہ کارروائی کے دوران برگر کھانے کی ویڈیو پر پارٹی نے ’انتہائی غیر حساس رویے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پارٹی ترجمان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں پارٹی کی تمام ذمہ داریوں اور عہدوں سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ وجیتا دہیا نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کچھ غلط نہیں تھا۔

ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو سونم وانگچک کو جنتر منتر پر جاری احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ’خاک میں ملا دینا چاہیے‘۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کنال کامرا نے اپنے خطاب کہا ’’موجودہ حکومت سیتا کے شوہر کا نام لے کر نیتا کے شوہر کے لیے کام کر رہی ہے اور صرف انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔‘‘ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنال کامرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ کامیڈین نے حکومت پر سیاسی طنز کیا تھا اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔

سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بعض اراکین پارلیمنٹ کو مالی لالچ دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو 15 کروڑ روپے پہنچائے گئے، جس کے بعد وہ ناندیڑ، پونے اور دیگر مقامات سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ 

نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟