Bharat Express DD Free Dish

POCSO Act

یہ معاملہ تھانہ شادیا باد علاقے کا ہے جہاں 20 جولائی 2025 کو ایک نابالغ بچی کے ساتھ اس کے سوتیلے باپ اشوک بنواسی نے گھناؤنا جرم کیا۔ اسی دن ایف آئی آر درج کی گئی اور اگلے ہی دن یعنی 21 جولائی کو ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش انسپکٹر شیام جی یادو نے درست فورنسک اور زبانی شواہد کی بنیاد پر کی، جس سے کیس کی مضبوط پیروی ممکن ہو سکی۔

حال ہی میں دستیاب ہونے والے 31 جولائی کے ایک حکم میں، عدالت نے کہا کہ لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح ہی جنسی زیادتی اور استحصال کو لے کر حاساس ہوتے ہیں اور وہ بھی جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرم کے لیے اتنے ہی حساس ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صرف لڑکیوں کو ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، یہ ایک متھ ہے۔

انڈین ریسلنگ ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کو پاکسو ایکٹ کے تحت چل رہے کیس میں بڑی راحت ملی ہے۔

سپریم کورٹ نے مرکز کو حکم دیا کہ وہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے لیے خصوصی POCSO عدالتیں قائم کرے۔ عدالت نے زیر التواء مقدمات اور ججوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا، اور 100+ ایف آئی آر پر ہر ضلع میں ایک POCSO عدالت قائم کرنے کو کہا۔

سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ نابالغ متاثرہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ عصمت دری نہیں بلکہ جنسی ہراسانی کا ہے۔ عدالت نے معاملہ سننے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کے دلائل کو مسترد کر دیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے POCSO کیس میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ نابالغ متاثرہ نے”جسمانی تعلق“کا لفظ استعمال کیا ہے، جسے بذات خود جنسی زیادتی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر سکانت مجمدار نے کہا، "دس سالہ بچی کو نہیں بچایا جا سکا؟ لڑکی کو بچانے کے لیے دو سویلین رضاکار تعینات نہیں کیے جا سکے

پولیس کے مطابق اس معاملے کی باریک بینی سے چھان بین کی گئی۔ جس میں انکشاف ہوا کہ 3 ستمبر کو اسکول میں کام کرنے والے مزدور نے لڑکی کے ساتھ گھناؤنا فعل کیا تھا۔ اس کے بعد طالب علم نے کلاس ٹیچر سریتا سنیجا اور ہیڈ مسٹریس پریتی شکلا کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔

دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پوسکو ایکٹ ایکٹ کے تحت جنسی ہراسانی جنس کے لحاظ سے محدود نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون مرد اور خواتین دونوں پر لاگو ہو سکتا ہے۔

وکلا کی ہڑتال کے باعث عدالت نے فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ دہلی پولیس نے عدالت سے کیس بند کرنے کی درخواست کی ہے۔