Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے دوران پسماندہ مسلم سماج اتھان سمیتی سنگھ نے پورے مہاراشٹر میں پسماندہ مسلمانوں سے بی جے پی کے نمائندوں کو ووٹ کر نے کی خصوصی اپیل کی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا، "مودی جی نے کہا ہے کہ وقف کوئی چیز نہیں ہے، میں بہت حیران ہوا، کل وہ کہیں گے کہ نمازاورزکوٰۃ کی کوئی روایت نہیں ہے۔ ہمیں وقف میں ترمیم کے معاملے پر اعتراض ہے۔ "

وزیر اعظم نے 'ترقی یافتہ ہندوستان' کی تشکیل میں نوجوانوں کے اہم رول کے بارے میں مزید بات کی اور کہا کہ ان کی توانائی، ہنر اور عزم ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مہا یوتی کی زبردست جیت اور یوپی ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی نے اپوزیشن کو بیک فٹ پر ڈال دیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کانگریس کے لیے ملک کے لوگ نہیں بلکہ اپنا خاندان اہم ہے۔ جنوب میں جا کر شمال کو گالی دو، شمال میں جا کر جنوب کو گالی دو اور بیرون ملک جا کر ملک کو گالی دو۔ یہ کانگریس خاندان کی سچائی بن گئی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اپوزیشن  ابھی بھی عوام کے  موڈ کو نہیں سمجھ پائی  ہے۔ وہ سچائی کو قبول نہیں کرنا چاہتی۔ ملک کے ووٹر عدم استحکام نہیں چاہتے، وہ نیشن فرسٹ کے جذبے سے جیتے ہیں۔ ملک کی ہر ریاست کے ووٹر دوسری ریاستوں کی حکومتوں کا اندازہ لگاتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہاراشٹر کی جیت یہ ثابت کرتا ہے کہ جب گڈ گورننس کی بات آتی ہے تو ملک صرف اور صرف بی جے پی اور این ڈی اے پر بھروسہ جتاتا ہے۔ مہاراشٹر ملک کا چھٹا صوبہ ہے جس نے بی جے پی کو مسلسل تین بار کامیابی دلائی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مہایوتی اتحاد کی زبردست جیت کی ستائش کی ہے۔اور انہوں نے اس جیت کو "ترقی کی جیت! گڈ گورننس کی جیت قرار دیا۔

یہ تنظیم پی ایم مودی کی قیادت میں 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کی قراردادوں سے متاثر ہے۔ جسدیپ سنگھ نے کہا کہ پی ایم مودی کی قیادت میں ہندوستان ہر طرح کی جامع ترقی کر رہا ہے۔ اس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں۔

کرکٹ کے لیجنڈ نے کہا کہ ہم نے اچھی بات چیت کی… بات چیت بہت اچھی ہوئی… میرے خیال میں ہمارے 11 کھلاڑی اب ہندوستان میں تربیت حاصل کریں گے۔ اس لیے ان کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ اس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔