Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

اس دورے پر وزیر اعظم پاٹلی پترا سے گورکھپور تک کی ایک وندے بھارت ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ سیوان میں تقریباً 9,519 کروڑ کے منصوبوں کا افتتاح کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے والے ہیں۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان تہران میں ہندوستانی طلباء کو پہلے ہی شہر سے باہر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کی بھرپور حمایت کرنے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’پہلگام دہشت گرد حملہ صرف ہندوستان پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تھا۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکی صدر کے ساتھ 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے واضح طور پر کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول نہیں کیا ہے اور آئندہ بھی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو اس بات چیت کی جانکاری دی۔

سکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق، 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے قبول کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پی ایم مودی کی طرف سے بتائی گئی باتوں کو تفصیل سے سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔

پی ایم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں اہم ہو گیا ہے جب پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ میں ہیں۔ منیر بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں لنچ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ پی ایم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بین الاقوامی برادری پائیدار مستقبل کے لیے سنجیدہ ہے تو دنیا کے لیے گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔

وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کینیڈا میں G7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی تھی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ٹرمپ کو جلد امریکہ واپس آنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ ملاقات نہ ہو سکی۔

پی ایم مودی نے کانفرنس سے وقت نکالا اور جنوبی کوریا، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے پہلی بار میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام پارڈو سے بھی ملاقات کی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، "وزیر اعظم مارک کارنی اور وزیر اعظم مودی نے ہندوستان-کینیڈا تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا، جو باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔"

رائٹر اور پوڈ کاسٹر کشال مہرا نے کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی طرف سے وزیر اعظم مودی کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجنا ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ گزشتہ تین سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دروازے بند ہیں۔ ایسے میں پی ایم مودی کی آمد سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلیں گے اور پٹری سے اترے ہوئے تعلقات دوبارہ پٹری پر آجائیں گے۔