Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Address

وزیر اعظم مودی کے سرکاری دفتر اور رہائش، دونوں کا پتہ جلد ہی تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) کو تاریخی ساؤتھ بلاک سے منتقل کر کے نئے تعمیر شدہ سیوا تیرتھ کمپلیکس میں لے جایا جائے گا، جبکہ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ بھی سات لوک کلیان مارگ سے ہٹ کر اسی نئے کمپلیکس کے قریب منتقل کی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ کوئلہ بھارت کی ترقی کے سفر اور 'وکست بھارت 2047' کے وژن میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ سوموار کو وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مرکزی کوئلہ اور کان کنی وزیر جی کرشن ریڈی کا ایک مضمون شیئر کیا، جس میں گزشتہ 11 سالوں میں بھارت کے کوئلہ شعبے کی ترقی اور اس کے مستقبل کے ایندھن کے طور پر ارتقاء کو اجاگر کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی موجودگی میں بھارت اور جرمنی کے درمیان طے پانے والے ایک نئے میگا پروجیکٹ کو مستقبل کی توانائی کے لیے گیم چینجر قرار دیا ہے۔ دو طرفہ مذاکرات کے بعد منعقد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان ہوئے متعدد اہم معاہدوں اور شراکت داریوں کی تفصیل بیان کی۔

وزیر اعظم مودی اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے دو طرفہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی 14 جنوری کو تمل ناڈو کے سب سے اہم اور روایتی تہوار پونگل کے موقع پر منعقد خصوصی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ یہ پروگرام صبح 9:30 بجے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مرگن کی نئی دہلی میں واقع رہائش گاہ پر منعقد کیا جائے گا۔

گجرات کے پرَبھاس پاٹن میں 8 سے 11 جنوری تک منعقد ہونے والا سومناتھ سوابھیمان پرو اپنی روحانی، تاریخی اور ثقافتی عظمت کے باعث قومی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی 11 جنوری کو خود پرَبھاس پاٹن پہنچ کر تقریبات میں شرکت کریں گے۔

وزیر اعظم مودی ’سومناتھ سوابھیمان پرو‘کے تحت منعقد تقریبات میں شرکت کے لیے گجرات پہنچے۔ وزیر اعظم اس موقع پر سومناتھ مندر میں پوجا کریں گے، جبکہ شام کے وقت مندر احاطے میں ایک عظیم الشان ڈرون شو کے ذریعے سومناتھ مندر کی ہزار سالہ تاریخ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ پیش کیا جائے گا، جسے ملک بھر کے عوام دیکھ سکیں گے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر ڈالنا درست نہیں۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سال 2025 کے دوران وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان آٹھ مرتبہ براہِ راست بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر سنجیدگی سے مذاکرات کیے ہیں۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔

وزیر اعظم مودی نے آج وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی سالگرہ پر انہیں خصوصی انداز میں مبارکباد دی اور بھارتی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر مستحکم بنانے میں ان کے اہم خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے انہیں ایک ماہر اور تجربہ کار ڈپلومیٹ قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو نمایاں کیا۔