سماجی تحفظ اور پنشن اسکیمیں لوگوں کو عزت اور معاشی تحفظ دینے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہیں: پی ایم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق یہ اسکیمیں حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت سماجی تحفظ کو ہر فرد کے لیے آسان اور جامع بنایا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ان منصوبوں سے خواتین کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔
?Privileges even after power: اقتدار کے بعد بھی مراعات؟ ہندوستان میں پنشن نظام پر ایک سنجیدہ نظر اور عوامی انصاف کی پکار
آج عوام بیدار ہو چکی ہے۔ وہ سوال کر رہی ہے، جواب مانگ رہی ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ سوشل میڈیا، اخبارات اور عوامی جلسوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عوامی احساس کو سمجھے اور اس کے مطابق فیصلے کرے۔
Dharmendra death 2025: ہیما مالینی یا پرکاش کور، کس کو ملے گی دھرمیندر کی ایم پی پنشن، کیا کہتے ہیں قواعد ؟
بالی وڈ کے معروف اداکار اور سابق رکن پارلیمنٹ دھرمیندر کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ کی پنشن کس کو ملے گی۔
Rajnath Singh Gift Soldiers Widow : فوجیوں کے اعزاز میں! بیواؤں کی پنشن 8,000 روپے، شادی کے لیے ایک لاکھ، سابق فوجیوں کے زیر کفالت افراد کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دی بڑی راحت
مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سابق فوجیوں اور ان کے زیر کفالت افراد کے لیے مالی امداد کی اسکیموں میں 100 فیصد اضافے کو منظوری دی ہے۔ وزارت دفاع نے بدھ کے روز کہا کہ یہ اسکیمیں سابق فوجیوں کی بہبود کے محکمے کے ذریعہ کیندریہ سینک بورڈ کے ذریعہ نافذ کی جاتی ہیں۔
EPFO launches centralised pension system: ای پی ایف اوسے متعلق بڑا اپ ڈیٹ، 68 لاکھ سے زیادہ پنشنرز کو ہوگا فائدہ
وزارت نے کہا کہ سی پی پی ایس کا پہلا پائلٹ پروجیکٹ گزشتہ سال اکتوبر میں کرنال، جموں اور سری نگر کے علاقائی دفاتر میں مکمل ہوا تھا۔
Martyr Army Jawan Pension: شہید فوجی کی پنشن پر بیوی یا والدین کس کا ہے حق ؟ حکومت نے پارلیمنٹ میں کیا واضح
وزیر دفاع نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ فوج نے اس موضوع پر وزارت دفاع کو ایک تجویز بھی بھیجی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہید فوجیوں کے والدین نے مالی مدد کے لیے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔
Rules Change: اب ان ملازمین کو گریچوٹی، پنشن اور پی ایف کا فائدہ نہیں ملے گا، قوانین میں ہوئی تبدیلی
ٹربیونل کے ترمیم شدہ قوانین میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب مرکز زیر التوا ٹیکس کے مقدمات اور قانونی چارہ جوئی کو تیزی سے نمٹانے کے لیے جی ایس ٹی اپیلیٹ ٹریبونل قائم کرنے کے عمل میں ہے۔





