Bharat Express DD Free Dish

Parliament Attack

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آج کا دن دہشت گردی کے خلاف ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کی بے مثال بہادری اور شجاعت کو یاد کرنے کا دن ہے، جب 2001 میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے مندر پارلیمنٹ پر ہوئے بزدلانہ حملے کو انہوں نے اپنے جذبے سے ناکام بنایا۔

دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس تھے اور فرضی شناختی اسٹیکرز کی مدد سے سکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ سی آر پی ایف کی کانسٹیبل کملیش کماری پہلی اہلکار تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو دیکھا اور خطرے کا الارم بجایا،

سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید مقابلہ ہوا اور تین دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ آخری دہشت گرد گیٹ نمبر 5 کی طرف بھاگا، مگر وہ بھی گولیوں سے بچ نہ سکا۔ یہ مڈبھیڑ صبح 11:30 بجے سے لے کر شام تقریباً 4 بجے تک جاری رہی۔

بھارت کی حالیہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، جان کیریاکو نے کہا کہ بھارت نے 2016 کے سرجیکل اسٹرائیک، 2019 کے بالاکوٹ فضائی حملے اور 2025 میں آپریشن سندور جیسے اقدامات کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی یا جوہری خطرات سے گھبرانے والا ملک نہیں ہے۔

زیر حراست باگل کوٹ انجینئر منورنجن ڈی کا دوست بتایا جا رہا ہے جو پارلیمنٹ میں داخل ہوا تھا۔ اسے بدھ کی رات حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں گزشتہ ہفتے لوک سبھا میں سیکورٹی کی خلاف ورزی کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے دہلی لایا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج اور اسماگ اسٹک جلانے والے چاروں ملزمین کو آج پٹیالہ ہاوس کورٹ میں پیش کیا گیا ہے ۔اس دوران عدالت سے ان تمام ملزمان کی تحویل کی اپیل کی جارہی ہے۔ دہلی پولیس نے تمام چاروں ملزمین کو پٹیالہ ہاوس کورٹ میں پیش کرکے 15دنوں کی ریمانڈ کی اپیل کی ہے۔

پارلیمنٹ حملے کی برسی پر ایک بار پھر پارلیمنٹ کی سیکیورٹی میں کوتاہی ہوئی اور دو نوجوانوں نے پارلیمنٹ میں گھس کر افراتفری مچادی۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ انتظامیہ کو پندرہ دن قبل ہی ایسی اطلاع ملی تھی کہ 13 دسمبرکے موقع سے ایوان کے قریب ہنگامہ ہوسکتا ہے اس کے بعد بھی سیکورٹی انتظامیہ نے بہت زیادہ احتیاط سے کام نہیں لیا جس کی وجہ سے یہ سب آج ممکن ہوپایا۔اس بیچ اگلے حکم تک پارلیمنٹ میں وزیٹر پاس پر پابندی لگادی گئی ہے ۔