Bharat Express DD Free Dish

Palestinian Prisoners

وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو کرسی پر باندھا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں جبکہ اس کا چہرہ بھی ڈھانپا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص آگے بڑھتا ہے اور ایک سوئچ دباتا ہے، جس کے بعد کرسی پر بیٹھا شخص شدید تکلیف میں تڑپنے لگتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو بار بار بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں اور آخرکار وہ بے جان ہو جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جس کی اسرائیل نے حمایت کی۔‘

رفح بارڈر کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد زخمی فلسطینیوں کے پہلے گروپ کو غزہ سے مصر لے جایا گیا۔ یہ مصر اور غزہ پٹی کے درمیان واحد کراسنگ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ سے 50 مریض طبی امداد کے لیے کراسنگ کے ذریعے مصر پہنچے ہیں۔ غزہ کے لوگ رفح کراسنگ کو ’دنیا کا گیٹ وے‘ کہتے ہیں۔ یہ مئی 2024 سے شہریوں کے لیے بند تھا۔

یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور غزہ پر 7 اکتوبر کو اسرائیل کے حملے کے بعد بنائے گئے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔ حملے روکنے کے بدلے اسرائیل نے 40 مغویوں کو رہا کرنے کی شرط رکھی تھی۔ تاہم حماس نے اس شرط کو ماننے سے انکار کر دیا۔

گروپ کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ نے ٹیلی گرام کے ذریعے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے میں "شدید تصادم" کے دوران سات اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔

ترجمان اشرف القدرہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ کمال عدوان اسپتال پر چھاپہ مارنے والی اسرائیلی فورسز نے "اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے سے کہا کہ وہ اسپتال کے سیکورٹی اہلکاروں کا ہتھیار حوالے کر دیں۔"

غزہ کے جنوب میں اسرائیلی حملے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نہیں رکے اور رات کے وقت اس میں مزید شدت آگئی۔ اسرائیلی فورسز نے اپنے حملوں کو خان یونس کے مشرقی علاقوں اور شہر کی ساحلی پٹی پر مرکوز کیا جہاں انہوں نے متعدد رہائشی مکانات کو تباہ کر دیا۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں جلود کے مقامی باشندوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی آباد کاروں نے لوگوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنانے والی کثیر الجہتی کارروائی کے ایک حصے کے طور پر نابلس میں العسکر مہاجر کیمپ پر بھی دھاوا بول دیا۔