Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Cricket

جو روٹ ایشیائی ٹیموں کے خلاف سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے انگلش کپتان بن گئے ہیں۔ روٹ کی قیادت میں انگلینڈ نے ایشیائی ٹیموں کے خلاف یہ 15ویں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس معاملے میں انگلینڈ کے سابق کپتان اینڈریو اسٹراس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مائیکل وان نے انگلینڈ کے بولنگ اٹیک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا اٹیک ہے اور اس میں بہت صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام گیند بازوں میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔

آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے مطابق محمد نواز کی 7 فروری 2026 کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گئے میچ اور اس کے بعد یکم مئی 2026 تک تمام مقابلوں میں ان کی انفرادی کارکردگی اور ریکارڈ کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اینٹی ڈوپنگ ضابطوں کے تحت لازمی ہے اور تمام کھلاڑیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔

بابراعظم کو وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کے سب سے قابلِ اعتماد بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا تجربہ، قائدانہ صلاحیت اور کپتانی کے تقاضوں سے واقفیت وہ اہم عوامل ہیں جن کی بنیاد پر بورڈ ایک مرتبہ پھر انہیں مختصر فارمیٹ کی قیادت سونپنے پر غور کررہا ہے۔

مارچ-اپریل 2022 کے بعد یہ آسٹریلیا کا پہلا ون ڈے دورۂ پاکستان ہوگا۔ اس سے قبل ہونے والی تین میچوں کی سیریز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 2-1 سے شکست دی تھی۔ اسی سال کے آغاز میں پاکستان نے تین ٹی20 میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو 0-3 سے کلین سوئپ بھی کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ مسلسل بڑے فیصلے کرتا ہوا نظرآرہا ہے۔ پہلے خبر آئی کہ اس نے چمپئنزٹرافی کے تمام مینٹارہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب رپورٹ ہے کہ سرفرازاحمد پاکستانی ٹیم کے سلیکشن پینل سے جڑسکتے ہیں۔

شان مسعود کی کپتانی میں ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی حالت انتہائی خراب ہے۔ حالانکہ، خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس کپتان کا بلہ اچھا چل رہا ہے اس لیے ان پر فی الحال سوالات نہیں اٹھائے جا رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی حالت بے حد خراب ہے۔ اس نے ابھی تک خاتون کھلاڑیوں کو گزشتہ چار ماہ کی تنخواہ نہیں دی ہے۔

بابر اعظم نے لکھا کہ ’ڈئیر فینز، میں نے قومی ٹیم کی کپتانی سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔  بطور کھلاڑی کردار ادا کرنے پر توجہ دینا اور فیملی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔قومی ٹیم کی قیادت کرنا میرے لیے ایک اعزار کی بات ہے لیکن اب یہ وقت ہے کہ میں بطور کپتان مستعفی ہو کر اپنے کھیل پر توجہ دوں۔

بنگلہ دیشی ٹیم منگل کی صبح لاہور پہنچ گئی ہے اور وہ 14 سے 16 اگست تک قذافی اسٹیڈیم میں پریکٹس کرے گی۔ اس کے بعد مہمان ٹیم 17 اگست کو اسلام آباد جائے گی۔ میچ سے قبل ٹیم 18 سے 20 اگست تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریکٹس سیشن میں شرکت کرے گی۔