Bharat Express DD Free Dish

OBC

’بھاگیداری نیائے سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں دلت، پسماندہ، قبائلی، اقلیتی طبقے کی آبادی تقریباً 90 فیصد ہے۔ لیکن بجٹ بننے کے بعد جب حلوہ تقسیم کیا جا رہا تھا تو وہاں 90 فیصد کی آبادی کا کوئی نہیں تھا۔ ملک کی 90 فیصد کی آبادی ہی پروڈکٹیو فورس ہے۔ حلوہ بنانے والے لوگ آپ ہیں لیکن حلوہ وہ کھا رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حلوہ وہ نہ کھائیں، لیکن کم از کم آپ کو بھی تو ملے۔

وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہر وزارت/محکمہ کو ریزرویشن سے متعلق احکامات اور ہدایات کی مناسب تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی سیکرٹری اور اس سے اوپر کی سطح کے کسی افسر کو رابطہ افسر کے طور پر نامزد کرنا ضروری ہے۔

لوک سبھا الیکشن کے نتائج سے پہلے تمام ایگزٹ پول سامنے آگئے ہیں۔ سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں نے انڈیا بلاک کے ساتھ کھیل کردیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریزرویشن سے دور رکھنے کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم کر ہونا پڑا ہے۔

آسام کے سی ایم ہمنتا نے کرناٹک اور آندھرا پردیش کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان مثالوں پر تنقید کی۔ جہاں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن نافذ کیا گیا۔

چراغ پاسوان کے والد رام ولاس پاسوان متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) -1 حکومت میں کابینہ کے وزیر تھے اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات تک کانگریس کے اتحادی تھے۔

این سی بی سی کے صدر ہنسراج گنگا رام اہیرکے مطابق، "کرناٹک حکومت کے کنٹرول کے تحت نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے میں ریزرویشن کے لئے کرناٹک کے سبھی مسلم مذہب کے لوگوں کواوبی سی کی ریاستی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی دیگر پسماندہ ذات (او بی سی) برادری سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ وہ عام زمرے میں پیدا ہوئے تھے۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی  نے کہا کہ جب میں کہتا ہوں کہ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہے تو مجھے ملک دشمن اور فرقہ پرست کہا جاتا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پیر (2 اکتوبر) کو کہا کہ بہار کی ذات پات کی مردم شماری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں او بی سی + ایس سی + ایس ٹی 84 فیصد ہیں۔ مرکزی حکومت کے 90 سیکرٹریوں میں سے صرف 3 او بی سی ہیں، جو ہندوستان کے بجٹ کا صرف 5 فیصد ہینڈل کرتے ہیں!