Bharat Express DD Free Dish

Nepal Floods

رسوا اور نواکوٹ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سیلاب نیپال اور چین کے درمیان سرحدی علاقے سے گزرنے والی بھوٹے کوشی ندی کے بالائی حصے میں برفانی تودہ گرنے کے باعث آیا۔

سیلاب نے نیپال کے کئی قصبوں اور دیہات کو متاثر کیا، اہم پل بہا دیے اور تقریباً ایک درجن ہائیڈرو پاور منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ چتوان ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 64 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ماہرین اس وقت سیلاب کے مختلف ممکنہ اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک امکان برفانی تودے کا ہے، جبکہ دوسرا خدشہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی باندھ بننے کا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ماہر شاشوت سانیال نے کہا کہ لینڈے کھولا میں 14 ماہ کے اندر دو مرتبہ سیلاب آیا ہے۔ ان کے مطابق اس بار ممکنہ طور پر برفانی تودے نے دریا کا بہاؤ روکا اور اس کے بعد پانی اچانک تیزی سے نیچے آیا، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔

’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے مجموعی طور پر 384 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ نیپال ٹورزم بورڈ کی ’’لاپتہ افراد‘‘ کی فہرست میں ہمالیئن گلیشیئر علاقے سے 37 غیر مقیم ہندوستانیوں کے لاپتہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔

نپا ل کے بالائی آبی کیچمنٹ علاقوں میں اچانک سیلاب کی صورتحال اور گنڈک ندی میں پانی کا بہاؤ اچانک بڑھنے کے خدشے کے پش نظر بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بدھ کو اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی۔ انہوں نے متعلقہ اضلاع کے حکام کو خصوصی طور پر چوکس رہنے اور صورتحال پر مسلسل سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندوستان ’’نیپال میں اپنے بہن بھائیوں‘‘ کے ساتھ مضبوطی سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں بچاؤ اور راحت رسانی کی کوششوں میں قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

نیپال میں سیلاب سے ہوئی تباہی کے درمیان وزیراعظم بالیندر شاہ نے قومی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر اسیم شاہ کے مطابق، وزیر اعظم خود متاثرہ علاقوں کے چیف ڈسٹرکٹ افسران سے رابطے میں ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھ رہے ہیں۔

نیپال میں شدید بارشوں کے باعث ہونے والی بڑی تباہی پر وزیراعظم نریندر مودی نے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت نیپال کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔نیپال میں شدید بارشوں کے باعث ہونے والی بڑی تباہی پر وزیراعظم نریندر مودی نے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت نیپال کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔