Bharat Express DD Free Dish

MP Maulana Mohibullah Nadvi

اعظم گروپ کی ڈمپل یادوسے ناراضگی کی خبروں پر سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری شیوپال یادو رام پور کے ایک روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کو ڈیمیج کنٹرول کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔

مسجد میں غیرمسلم بھائیوں کے جانے پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے، لیکن اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو کے سرپرڈوپٹہ نہیں تھا، اس وجہ سے اس تنازعہ کو مزید ہوا ملنے لگی۔ بہرحال اس معاملے پر جم کر سیاست ہو رہی ہے۔

بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی کا کہنا ہے کہ یا تومسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی عوام سے معافی مانگیں اوراپنی غلطی کا اعتراف کریں، ورنہ جمعہ کے روز 25 جولائی کوبعد نمازجمعہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے لیڈران کی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے ندوی نے کہا کہ وہ لوگ صرف سیاست کرتے ہیں۔ انہیں مذہب کی سیاست کرنی ہے۔ سب میری پارٹی کے ایم پیز ہیں، اگر میں ان کے ساتھ یہاں بیٹھوں تو اس میں جھگڑا کیا ہے؟ مسجد کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ایم پی نے کہا کہ وہاں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آپ یہ کیسے بھول گئے کہ یہ آپ کا سیاسی دفتر نہیں بلکہ مسجد ہے؟آج آپ نے اپنی پارٹی کی میٹنگ کی، کل دوسری پارٹی کے لیڈران اپنی میٹنگ کیلئے ہوٹل کے بجائے اس مسجد کا انتخاب کریں گے تو آپ انہیں کیسے منع کریں گے ؟

محب اللہ ندوی نے حال ہی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے غیر قانونی دراندازوں کے حوالے سے دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہیں، آسام میں حکومت صرف ان کی ہے۔ ان کو دخل اندازی سے روکیں۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے کہا کہ، اس بل کے ذریعہ حکومت کی جانب سے جو پیغام دیا گیا ہے وہ اس کی بات کی عکاسی کرتا ہے حکومت کی منشاء اور نیت درست نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا یہ ترمیمی بل دستور کے برعکس ہے۔