Bharat Express DD Free Dish

Marco Rubio

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائی کے ذریعے بغیر طویل جنگ کے دباؤ بنایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فوجی طاقت کا استعمال گولیاں چلانے کے لیے نہیں بلکہ وینزویلا کی تیل سپلائی کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

کانگریس نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وینزویلا کے عوام کی خواہشات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وینزویلا کے قدرتی وسائل کا استعمال وہیں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہی ہونا چاہیے، جیسا کہ قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری کے اصولوں میں ضمانت دی گئی ہے۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے کہا کہ انہوں نے امریکی حملے کے جواب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ٹیلگرام پر یو این کو بھیجے گئے خط کو شیئر کرتے ہوئے کہا، ’’ان لوگوں کی طاقت کے سامنے کوئی بھی بزدلانہ حملہ کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ جیتیں گے۔”

بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی. اس دوران دونوں نے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

فاکس بزنس کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں روبیو نے بھارت-پاکستان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسا صدر ہے، جس نے امن کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔

غزہ جنگ کے بعد اسپین، ناروے، آئرلینڈ اور سلووینیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے میکرون کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو ملکی حل ہی واحد راستہ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پچھلے کچھ سالوں سے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ پیر سے ہی اسرائیل نے شامی فوج کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ جنوبی شام کے شہر سویدہ میں مقامی سیکورٹی فورسز اور دروز کمیونٹی کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے بعد اسرائیل نے شامی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس جھڑپ میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے، جنہوں نے اسے ’قبل از وقت حملہ‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد خطرات کو بے اثر کرنا ہے۔ کاٹز نے قومی تیاری اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پورے اسرائیل میں ہنگامی صورت حال کا اعلان بھی کیا ہے۔

محبوبہ نے اپنے بیان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہند-پاک کشیدگی کے معاملے میں امریکہ ایک خاص نقطہ سے آگے مداخلت نہیں کرے گا۔ حالانکہ، صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستانی آرمی چیف سے رابطہ کرکے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

مارکو روبیو نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے ایسے وقت میں بات کی جب پاکستان مسلسل ڈرونز سے ہندوستانی علاقوں پر حملے کر رہا ہے، جس کا ہندوستانی فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔