Owaisi Attacks Bengal Government: اسد الدین اویسی کا بنگال حکومت پر حملہ، ’اسلام سے نفرت کے باعث مدارس بند کیے جا رہے ہیں‘
اسد الدین اویسی نے کہا کہ بنگال حکومت مدارس کو اس لیے بند کر رہی ہے کیونکہ وہاں مسلمانوں کو ان کے مذہب کے مطابق قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اقدام مسلمانوں اور اسلام کے تئیں نفرت کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ اویسی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 30 کی واضح خلاف ورزی ہے۔
Asaduddin Owaisi fires back at Keshav: ’’جن لوگوں کو انگریزوں سے محبت رہی ہو، وہ مدارس کو کیسے پسند کر سکتے ہیں‘‘ اسد الدین اویسی کا کیشو پرساد موریہ پر سخت حملہ
اویسی نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی ’’زہریلی زبان‘‘ استعمال کرے۔ اویسی نے مزید کہا ’’جب کرسی نہ ہو تو اسٹول والوں کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘‘
’’مدارس کودہشت گردی کا اڈہ قراردینا انتہائی غیرذمہ دارانہ‘‘، مولانا سید ارشد مدنی نے یوپی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے ذریعہ مدارس سے متعلق دیئے گئے بیان کی سخت مذمت کی
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔
Vande Mataram in West Bengal Madrasas: بنگال کے تمام مدارس میں بھی وندے ماترم پڑھنا لازمی، شوبھیندو ادھیکاری حکومت کا بڑا فیصلہ
مغربی بنگال میں اب تمام سرکاری، امداد یافتہ اورغیر منظور شدہ مدارس میں دعائیہ اجتماع کے دوران وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مدرسہ ایجوکیشن کے ڈائریکٹرکی طرف سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ تمام سابقہ احکامات اورطرزعمل کو منسوخ کرتے ہوئے، تمام مدارس میں کلاسیزشروع ہونے سے قبل دعائیہ کلمات (پریئرمیٹنگ) کے دوران وندے ماترم گانا لازمی ہے۔
Free Books distributed to Children: مدرسۃ الہدیٰ کے بچوں میں مفت کتابیں تقسیم، مکتیشور ناتھ مہادیو مندر کے پجاری پردیپ پانڈے نے سراہا
جنک پور واقع مدرسۃ الہدیٰ سوسائٹی میں تعلیم یافتہ تقریباً 100 بچوں میں مفت کتابیں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پرگنگا جمنی تہذیب کی ایک خوبصورت مثال دیکھنے کو ملی، جب ہندواورمسلمان ایک ساتھ جمع ہوئے۔
Mid-Day Meal Scheme Probed in UP’s 558 Madrasas: یوپی میں سرکاری امداد یافتہ مدارس میں مڈ ڈے میل اسکیم کی جانچ کے احکامات، مبینہ بدعنوانی کا معاملہ
شکایت کنندہ طلحہ انصاری نے بتایا کہ بلرام پور میں تین امداد یافتہ مدارس مدرسہ عائشہ صدیقہ، مدرسہ دارالعلوم فاروقیہ اور مدرسہ فضل رحمانیہ میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت تقریباً آٹھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام سامنے آیا تھا۔
UP Madrasa News: بچوں کے کھانے میں مبینہ گھوٹالہ، 558 مدارس کی جانچ کا حکم، یوپی حکومت کا بڑا ایکشن
حکام کے مطابق جانچ کے دائرے میں کئی اہم پہلو شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ مدارس کو دی گئی سرکاری رقم کس طرح خرچ کی گئی۔ اس کے علاوہ کھانے کی تقسیم کا نظام، بچوں کی اصل تعداد اور مستفید ہونے والوں کے ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کہیں فرضی طلبہ کے نام پر فنڈز جاری کیے گئے ہوں گے تو اس کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔
UP ATS seeks information on all madrasas: اتر پردیش کے مدارس کی بڑھیں مشکلیں، یوپی اے ٹی ایس نے طلب کیں مکمل تفصیلات
یوپی اے ٹی ایس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ کچھ خفیہ معلومات موصول ہوئی ہیں، جن میں چند مدارس میں مشکوک سرگرمیوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، اس لیے قومی سلامتی کے پیشِ نظر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیادہ تر مدارس اچھا کام کر رہے ہیں اور یہ صرف جانچ کا عمل ہے، لیکن کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔
Jamiat Ulema-e-Hind on Action of UP Madrasas: مدارس کے خلاف کارروائی پر مولانا ارشد مدنی ہوئے برہم، سپریم کورٹ کے ذریعہ پابندی کے بعد کارروائی کو توہین عدالت کے مترادف بتایا، جمعیۃ علماء ہند نے بنایا یہ بڑا پلان
جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مدارس کے خلاف این سی پی سی آرکی گائیڈلائن پرسپریم کورٹ کے فیصلے کا مولانا محمود مدنی نے کیا استقبال
جمعیۃ علماء ہند جدید تعلیم کوفروغ دینے کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی اوایس) سے منسلک جمعیۃ اسٹڈی سینٹرچلا رہی ہے، جہاں 15 ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کوروایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مضامین کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔





