Bharat Express DD Free Dish

Kuldeep Singh Sengar

سپریم کورٹ نے اناؤ ریپ کیس کے مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرنے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر نئے سرے سے سماعت کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر فیصلہ سنائے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اناو آبروریزی متاثرہ کے والد کی حراست میں موت کے معاملے میں سزا کاٹ رہے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سینگرکی سزا معافی عرضی خارج کردی ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے کلدیپ سینگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر سی بی آئی کی عرضی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس رہنما اور خواتین کارکن ممتاز پٹیل نے کہا: ’’اب ہمیں امید ہے کہ اناؤ کی متاثرہ کو انصاف ملے گا۔ کلدیپ سینگر کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔ ایک نیا قانون آنا چاہیے جس میں ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دی جائے۔‘‘

سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)  نے یہ عرضی متاثرہ کی اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سے ملاقات کے چند دن بعد دائر کی تھی۔

غیر قانونی دراندازوں کے مدعے  پر افضال انصاری نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کا پروگرام چلایا گیا، جہاں تقریباً 64 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے۔ بہار کے بعد اتر پردیش اور مغربی بنگال سمیت 12 ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیا۔ دراندازوں کے معاملے پر بہت بدنامی کی گئی، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2017 کے اناؤ آبروریزی کیس میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا پر روک لگا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سینگر کو شرائط کے ساتھ ضمانت دی ہے۔ نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو اناؤ عصمت دری کیس کے مجرم اور سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو عبوری ضمانت دے دی۔ عدالت نے طبی بنیادوں پر سینگر کو کچھ شرائط کے ساتھ راحت دی ہے۔

دسمبر 2019 میں، عدالت نے کلدیپ سنگھ سینگر کو نابالغ متاثرہ کی عصمت دری اور متاثرہ کے والد کی تحویل میں موت کے معاملے میں قصوروار پایا تھا، جس کے بعد عدالت نے ریپ کیس میں سینگر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

جسٹس نے کہا کہ جب جرم کی سنگینی، جرم کی نوعیت، مجرم کی مجرمانہ تاریخ اورعدلیہ پرعوام کے اعتماد پر پڑنے والے اثرات پرغور کیا جائے تو کلدیپ سینگرسزا کی معطلی کا مستحق نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ دیگر عوامل میں جرم کی سنگینی، جرم کی نوعیت، ملزم کی مجرمانہ تاریخ، عدالت پر عوام کے اعتماد پر اثر وغیرہ شامل ہیں۔