Bharat Express DD Free Dish

Kanwar Yatra Controversy

عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی عقیدے اور باہمی بھائی چارے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سہارنپور کی گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنائے رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ کانوڑیوں کی خدمت کے دوران عمران مسعود شیوبھکتوں کے ساتھ بھگوان شیو کی عقیدت میں رنگے ہوئے نظر آئے۔

اترپردیش اوراتراکھنڈ حکومت کوسپریم کورٹ نے کانوڑ یاترا کے دوران ڈھابوں پرکیوآرکوڈ لازمی قراردینے کے حکم پر راحت دی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یاترا اختتام پرہے اورڈھابہ مالک قانونی دفعات پر عمل کریں گے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکم مذہبی امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

ایس پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مسئلہ پر بھی ایسا ہی رویہ اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر مذہبی عقیدے کا احترام کرنا ہے، تو دونوں قسم کی دکانوں پر یکساں اصول لاگو ہوں۔ صرف نان ویج دکانوں کو بند کرنا اور شراب کی فروخت جاری رکھنا عقل مندی نہیں ہے۔‘‘

کانوڑ یاتریوں اور ان کی عقیدت کا جتنا احترام یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہو رہا ہے اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا: آچاریہ پرمود کرشنم

سلطان گنج کے محمد ظفیر 15 سال سے یہاں درزی کا کام کر رہے ہیں اور ایک دکان بھی چلاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کوئی امتیاز نہیں دیکھا۔ کانوڑیاں آتے ہیں اور سامان خرید کر لے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے یوگی حکومت کے نام کی تختی کے حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ اس سلسلے میں اتر پردیش کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عرضی گزارمہوا موئترا کی طرف سے پیش وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ یہ حکم معاشی بائیکاٹ کی کوشش ہے اور چھوا چھوت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔