Bharat Express DD Free Dish

Jordan’s King Abdullah

وزیراعظم مودی اگلے ہفتے اردن کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندی دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے فروری 2018 میں اردن کا دورہ کیا تھا، جس کے فوراً بعد کنگ عبداللہ دوم نے فروری-مارچ 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔

اردنی بادشاہ نے اعلان کیا کہ مصر ایک منصوبہ تیار کر رہا ہے کہ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کیسے کام کیا جائے؟۔شاہ عبداللہ الثانی نے کہا کہ ٹرمپ "اس منصوبے کو پیش کرنے کے لیے مصر کے آنے کے منتظر ہیں۔

مسجد اقصیٰ کمپلیکس جسے یہودیوں میں ٹمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے دونوں کے درمیان ایک طویل مدت سے تنازعہ چل رہا ہے۔

اردن میں آخری بارانتخابات نومبر2020 میں کرائے گئے تھے۔ انتخابی عمل میں 46 لاکھ رجسٹرڈ رائے دہندگان ووٹ کا حق استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ نئے انتخابات کرانے کے لئے ملک میں ایک آزآد الیکشن کمیشن بھی کام کررہا ہے۔

خطے میں امریکی اڈوں پر حملے ہوتے رہے ہیں لیکن ابھی تک امریکی فوج کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر بائیڈن کو اتوار آج شام امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور دیگر حکام نے حملے کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کرتے ہوئے پی ایم مودی نے حماس کے حملے کو دہشت گردانہ واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم یکجہتی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ آج اسرائیل غزہ میں عام شہریوں کو بھوکا مار رہا ہے لیکن کئی دہائیوں سے فلسطینی امید، آزادی اور مستقبل کے بھوکے ہیں۔ انہوں نے کہا، "جب بم گرنا بند ہو جاتے ہیں، اسرائیل کو کبھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، قبضے کی ناانصافی جاری رہتی ہے اور دنیا تشدد کے اگلے دور تک چلی جاتی ہے۔