Bharat Express DD Free Dish

Jan Suraaj

جن سوراج پارٹی کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے سابق امیدوار بنٹی پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کو ڈرا دھمکا کر ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حالانکہ، بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ بانکی پور ضمنی انتخاب سے قبل جن سوراج کے کئی اہم رہنماؤں کی بی جے پی میں شمولیت انتخاب کو متاثر کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی حلقے سے چار مرتبہ کے رکن اسمبلی نتن نوین کے استعفیٰ کے بعد یہ ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔

بانکی پور اسمبلی حلقہ روایتی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ یہ نشست بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔ 30 جولائی کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو کی جائے گی۔

جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے کہا کہ الیکشن کے وقت حکومت نے لگ بھگ 40 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ اسے اتنا بڑا عوامی مینڈیٹ ملا۔ حالانکہ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام نے 10 ہزار روپے کے لیے اپنا ووٹ نہیں بیچا۔

وی آئی پی پارٹی کے سربراہ مکیش سہنی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد کہا کہ بہار میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ زبردست ووٹنگ ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس بار پورے بہار میں تبدیلی آئے گی اور مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنے گی۔

اننت سنگھ نے کہا کہ حادثے کے وقت وہاں موجود لوگوں کے پاس پہلے سے ہی ہتھیار موجود تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ پوری سازش آر جے ڈی لیڈر سورج بھان سنگھ نے رچی تھی تاکہ ووٹوں کو متاثر کیا جا سکے۔

انتخابی حکمتِ عملی کے ماہر اور ”جن سوراج پارٹی“ کے بانی پرشانت کشور ایک نئی تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشور کا نام بہار اور مغربی بنگال، دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹوں میں درج پایا گیا ہے، جو قانوناً ممنوع ہے۔

آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر جاری سیاسی ہلچل کے بیچ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے اتوار کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

پرشانت کشور نے اپیل کی کہ بہار میں اب تک جتنے بھی احتجاج میں شامل لوگوں پر لاٹیاں چلی اور جن لوگوں نے لاٹھی کھائی ہے، روکر گھر چلے گئے ہیں، آئیے واپس آئیے۔ اس گاندھی میدان میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ وقت آ گیا ہے اپنے حق کی آواز متحد ہوکر بلند کرنے کا۔

بہار میں سیلاب کی صورتحال پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے شاہنواز حسین نے کہا کہ جب بھی بہار میں سیلاب آیا۔ بی جے پی اور جے ڈی یو نے لوگوں کی مدد کی۔ بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو کی این ڈی اے حکومت ہے۔ آج بھی جتنی مدد کی جا سکتی تھی فراہم کی جا رہی ہے۔