Bharat Express DD Free Dish

ITBP

NEET پرچہ لیک معاملے کو لے کر ملک بھر میں طلبہ کا غصہ مسلسل سامنے آ رہا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر سے لے کر ملک کے کئی شہروں تک طلبہ اور نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ممبئی میں بھی طلبہ نے سڑکوں پر اتر کر اپنی آواز بلند کی۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عوامی انتظامیہ کی مؤثر صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (ایم جی ایس آئی پی اے)، حکومتِ پنجاب اور انڈو-تبتی بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ ان سرچ، ریسکیو اینڈ ڈیزاسٹر ریسپانس (این آئی ٹی ایس آر ڈی آر) کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

بھارت-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو بھارت-چین جنگ کے بعد عمل میں آیا۔ اس فورس کا بنیادی مقصد بھارت اور چین کے درمیان اصل کنٹرول لائن (LAC) کی حفاظت کرنا ہے۔

آسام رائفلز کے ایک افسر نے کہا کہ فوجی میزورم میں بغیر باڑ والی ہندوستان-میانمار سرحد پر بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔ بڑھتی ہوئی چوکسی کی وجہ سے حالیہ دنوں میں اس راستے سے منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیر اعظم نے کوہ پیماؤں کی بے مثال ہمت اور لگن کی کہانی سنا کر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ری سائیکلنگ کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا، ’’اب سوچئے، جب کوہ پیما ایسے مشکل حالات میں کچرا واپس لا سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے گھر یا دفتر میں کاغذ الگ کرکے ری سائیکلنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے۔ جب ملک کا ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک کے لیے میں کیا بہتر کر سکتا ہوں، تبھی مل کر ہم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے ٹیم کی صلاحیت اور جذبے کی تعریف کی اور خاص طور پر مہم کے دوران ماحولیاتی ذمہ داری کو برقرار رکھنے کی ان کی کوششوں کو سراہا۔

معاملے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے شمال مغربی سرحدی بٹالین کے اہلکاروں نے بتایا کہ ITBP کی 21ویں بٹالین مشرقی لداخ میں جنوبی سب سیکٹر کے سرحدی علاقوں (چسمولے، نربولا ٹاپ، زکلے اور زکلا) میں دراندازی اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سرچ آپریشن کر رہی تھی۔ جس کی قیادت ڈی سی دیپک بھٹ نے کی۔

مرکزی وزارت داخلہ نے آج لوک سبھا میں یہ تحریری جواب پیش کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پچاس ہزار سے زائد سینٹرل آرمڈ فورسز نے اپنی نوکریاں چھوڑ دی ہیں ۔ چھوڑنے کی وجہ ذاتی وجوہات یعنی رضاکارانہ طور پرقبل از وقت ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ بتائی گئی ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سی سی ایس (پینشن) رولز 1972 کے مطابق سی آر پی ایف، بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے تمام ملازمین کو پرانی پنشن اسکیم کا فائدہ ملے گا۔