Bharat Express DD Free Dish

Israel Hezbollah War

امریکی صدر جوبائیڈن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب اتوار کو لبنان میں اسرائیل کے ہوائی حملوں میں درجنوں لوگ مارے گئے۔ حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ نیتن یاہو سے کب بات کریں گے۔ امریکہ بھی حسن نصراللہ کی ہلاکت کو حزب اللہ کے لئے ایک بڑا جھٹکا مانتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی غزہ پٹی کے تنازعہ کے بعد زیادہ بڑھی ہے۔ اولین ترجیح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا، غزہ پٹی میں جلد از جلد جنگ کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھنا ہے۔

28 ستمبر: ہفتے کے روز، IDF نے نصراللہ کے قتل کا اعلان کیا۔ چند گھنٹے بعد حزب اللہ نے بھی اپنے لیڈر کی موت کی تصدیق کر دی۔ نصراللہ 1992 میں 30 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ اگلے 32 سالوں میں انہوں نے حزب اللہ کو نہ صرف لبنان بلکہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی طاقت بنا دیا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے حزب اللہ کے سربراہ کی موت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً نصر اللہ کی موت ایک بڑا نقصان ہے لیکن اس سے مزاحمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی انتخابی مہم ایک دن کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ لبنان اور غزہ کے شہداء بالخصوص حسن نصر اللہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے میں کل اپنی مہم منسوخ کر رہی ہوں۔

حزب اللہ نے اپنے لیڈرحسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ حزب اللہ نے خود بیان جاری کرکے کہا ہے کہ اس کے لیڈرحسن نصراللہ اب ان کے درمیان نہیں ہیں۔

بنجامن نیتن یاہونے اقوام متحدہ میں حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع کا ذمہ دارایران کوٹھہرایا۔ اس نے دو نقشے دکھائے، جن میں فلسطین شامل نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔

حملے کے بارے میں جب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں کوئی پیشگی انتباہ نہیں تھا۔

بیروت میں جمعہ کو اسرائیلی فوج کے بڑے حملے کے بعد بھی حزب اللہ سربراہ ابھی زندہ ہیں۔ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے رائٹرز سے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے بعد حسن نصر اللہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوپایا ہے، لیکن وہ زندہ اور محفوظ ہیں۔

حزب اللہ اوراسرائیل کے درمیان جاری جنگ کےسبب امریکہ، فرانس نے 21 دنوں کا سیزفائرکا پلان بنایا تھا۔ اس پلان کومنانے سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے واضح طورپرانکارکردیا ہے۔ نتین یاہوکا کہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کونہیں روکا جائے گا اورحزب اللہ پران کی طرف سے بمباری جاری رہے گی۔