Bharat Express DD Free Dish

Iran Vs Israel

سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اکثر سخت، متنازع اور غیر شائستہ ہوتے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے Truth Social پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جو پوسٹ لکھی، اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی ہے۔ اس پوسٹ کے مذہبی انداز پر امریکہ کی ایک اسلامی تنظیم نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

دبئی ایئرپورٹ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک ڈرون کے فیول ٹینک سے ٹکرانے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت تمام پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیل میں چو طرفہ  دہشت کا ماحول ہے اور سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ اس درمیان ٹرمپ نے ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل کردی۔

قطر کے امیر نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی سرزمین میں اسرائیل کی دراندازی اور حملے فوری بند کیے جائیں۔ امن قائم کیے بغیر سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی۔

مولانا کلب جواد نے کہا کہ اسرائیل کو سزا ملنی چاہیے اور پوری دنیا کو اس کی سزا کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے۔ اس کی منصوبہ بندی مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرنے کی ہے اس پر نظر ڈالیں وہ دو دریا ہیں یعنی وہ اپنے نقشے میں پانچ ممالک کو دکھا رہا ہے۔

اسرائیلی مذہبی رہنما اس حادثے کے پر خوشی ظاہر کرکے بے حسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا یروشلم پوسٹ کے مطابق ربی میر ابوتابل نے ایک فیس بک پوسٹ میں رئیسی کو تہران کا جلاد قرار دیا اور اسرائیل اور یہودیوں کی مخالفت پر اس کی مذمت کی۔

اردن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اڑنے والی اشیاء کو اس کی فضائی حدود میں روکا گیا تھا۔ کچھ ٹکڑے کئی مقامات پر گرے۔لیکن کوئی خاص نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شہری زخمی ہوا ہے۔"