Bharat Express DD Free Dish

Indian Sports

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی کامیابی کو بھارت کے لیے تاریخی قرار دیا۔ وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا، ’’مکسڈ مارشل آرٹس میں کانسی کا تمغہ جیتنے اور اس کھیل میں بھارت کے لیے ایشین گیمز کا پہلا تمغہ لانے پر سچیکا تاریال کو مبارکباد۔‘‘ پی ایم مودی نے سچیکا کی کامیابی کو ان کی لگن اور محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کارکردگی خاص طور پر ان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ سوچکا فائنل میں جگہ بنانے سے محروم رہیں، لیکن ان کا کانسے کا تمغہ ہندوستانی ایم ایم اے کے لیے ایک تاریخی کامیابی بن گیا ہے۔

27 اگست کے اس ’یوا سنواد‘ میں کھیلوں سے متعلق پانچ بڑے ستونوں پر غور کیا جائے گا۔ ان میں سب سے اہم 2036 کے مجوزہ احمد آباد اولمپکس کے لیے سائنسی بنیادوں پر ٹیلنٹ کی شناخت ہے۔ وزیر اعظم مودی کے وژن کے تحت کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے، انہیں عالمی معیار کی اسپورٹس سائنس کی سہولت فراہم کرنے اور غیر ملکی کوچنگ کے مواقع دینے پر زور دیا جائے گا۔

ترشا جولی کے ساتھ مل کر گایتری گوپی چند نے گھریلو سرزمین پر منعقدہ ورلڈ چیمپئن شپ میں بھارت کو ویمنز ڈبلز کا کانسی کا تمغہ دلایا، 15 سال بعد بھارت نے اس زمرے میں تمغہ جیتا، اس سے پہلے 2011 میں جوالا گٹا اور اشونی پونپا نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے گاندھی نگر میں منعقدہ تقریب میں نورجہاں کو ایوارڈ پیش کیا۔ احمد آباد میں مقیم نورجہاں اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز لمیٹڈ میں جونیئر افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہیں اڈانی اسپورٹس لائن کی ’گرو ہے‘ پہل کے تحت اعلیٰ سطح کی کھیلوں کی تیاری کے لیے مسلسل تعاون بھی حاصل ہے۔

ہر بھجن نے امید ظاہر کی کہ حکومت پنجاب میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ ہر بھجن سنگھ پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور ایوانِ بالا میں مسلسل ریاست سے متعلق مسائل، خصوصاً کھیلوں کی ترقی اور نوجوانوں کی فلاح سے جڑے معاملات اٹھاتے رہے ہیں۔

کامن ویلتھ گیمز 2026 میں بھارت 125 کھلاڑیوں کے ساتھ 8 کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے، لیکن کئی اہم کھیلوں کے پروگرام سے خارج ہونے کے باعث تمغوں کی دوڑ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔برمنگھم کامن ویلتھ گیمز 2022 میں بھارت نے مجموعی طور پر 61 تمغے جیتے تھے، جن میں سے 30 تمغے ایسے کھیلوں میں حاصل ہوئے تھے جو اس بار گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کے شیڈول میں شامل ہی نہیں ہیں۔ ان میں ریسلنگ، ہاکی، بیڈمنٹن سمیت کئی ایسے کھیل شامل ہیں جن میں بھارت روایتی طور پر مضبوط دعویدار رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کو 2-0 سے شکست دے کر بھارت نے دوسری بار خطاب جیتا۔ ٹیم کی اس کامیابی پر ہاکی انڈیا نے ہر کھلاڑی کے لیے 3 لاکھ روپے اور سپورٹ اسٹاف کے ہر رکن کے لیے 1.5 لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

سیف ویمنز چیمپئن شپ 2026 کا یہ خطاب نہ صرف بھارتی خواتین فٹبال ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ ملک میں خواتین فٹبال کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فتح سے نوجوان لڑکیوں میں فٹبال کے تئیں دلچسپی مزید بڑھے گی اور مستقبل میں بھارت کو عالمی سطح پر مضبوط نمائندگی مل سکتی ہے۔

رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا کہ کھیل زندگی میں نظم و ضبط، ایمانداری، شفافیت اور باہمی محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نوجوانوں میں صحت مند ذہن، صحت مند جسم اور بہتر اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے کھیلوں کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہے۔